The news is by your side.

Advertisement

غیر معیاری سیاہی نے انتخابات کو مشکوک بنا دیا

اسلام آباد: انتخابی عمل کو شفاف بنانے کیلئے کروڑوں روپےسے تیارکی گئی معیاری سیاہی کے غیر معیاری ہونے کے ثبوت نے الیکشن کو مزید مشکوک بنادیا ہے۔ الیکشن کمیشن بھی لاکھوں روپے وصول کرکےانتخابی عذرداریاں نمٹانے میں مصروف رہا۔ جس سیاہی پر تکیہ تھاوہی کالک مل گئی۔

انتخابی تیاریوں کےدوران مقناطیسی سیاہی کو ایسے پیش کیاگیا کہ اب دھاندلی کی گنجائش ہی باقی نہیں اور سیاہی پر قوم کے لگ بھگ دس کروڑ روپے خرچ کئے گئے، الیکشن کمیشن لیکن یہی سیاہی جواب دے گئی۔

جب اسمبلی سے لے کر ڈی چوک تک بار بار مقناطیسی سیاہی پر سوال اٹھے تو پہلے پی سی ایس آئی آر نے سیاہی کے ناقص ہونے کا اعتراف کیا پھر الیکشن کمیشن نے یہ کہہ کر جان چھڑائی مقناطیسی سیاہی تو قانونی طور پر لازمی نہیں تھی۔

سوال یہ ہے کہ مقناطیسی سیاہی لازمی نہیں تھی تو پھر اس پر اتنے دعوے کیوں گئے؟ اسی مقناطیسی سیاہی کے لئے الیکشن کمیشن نے حکومت سے اضافی روپے کیوں مانگے تھے؟ الیکشن کمیشن نے انتخابات سے پہلے کیوں نہیں کہا کہ مقناطیسی سیاہی کا استعمال لازمی نہیں؟

کیا الیکشن کمیشن کا مقناطیسی سیاہی کے لازمی نہ ہونے کا بیان سیاسی نہیں؟ اور سب سے اہم کیا الیکشن کمیشن مقناطیسی سیاہی پر کئے گئے دعوؤں پر قوم سےمعافی مانگے گا؟

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں