The news is by your side.

Advertisement

فوج ذمہ داری نبھارہی ہے، مزید بوجھ کیوں ڈالا جارہا ہے، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے اٹھارہویں اور اکیسویں ویں ترامیم کیخلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فوج اپنی ذمہ داری نبھا رہی ہے تو مزید بوجھ کیوں ڈالا جا رہا ہے۔

چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سترہ رکنی لارجر بینچ نے وفاق کے وکیل خالد انور سے استفسار کیا کہ ملٹری کورٹ بنائی گئی کیا آرٹیکل دس اے اور چار کی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔

خالد انور نے اپنے دلائل میں کہا کہ امریکا میں ملکی دفاع کے پیشِ نظر فوجی عدالتیں بنائی گئیں، پاکستان میں بھی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے فوجی عدالتیں قائم کی گئیں۔

چیف جسٹس نے خالد انور سے استفسار کیا کہ کیا سپریم کورٹ کو کوئی آئینی ترمیم ختم کرنے کا اختیار ہے، جس پر خالد انور نے کہا کہ سپریم کورٹ فوجی عدالت کالعدم قرار نہیں دے سکتی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ مطلب ہے کہ ہمیں عدالتی برداشت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، خالد انور نے اپنے دلائل میں کہا کہ فوجی عدالتوں میں صرف دہشتگردی کے مقدمات چلائے جائینگے، فوجی عدالتوں کے قیام کیلئےفوجی قانون کاسہارا لیا گیا۔

وفاق کے وکیل کا کہنا تھا کہ انسداد دہشتگردی عدالتوں سےمطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے، سماعت پچیس مئی تک ملتوی کردی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں