The news is by your side.

Advertisement

فیض احمد فیض کوہم سے بچھڑے تیس برس بیت گئے

فیض احمد فیض کو ہم سے بچھڑے تیس برس بیت گئے ہیں۔

فیض احمد فیض غالب اور اقبال کے بعد اردو کے سب سے عظیم شاعر ہیں، فیض احمد فیض انیس سو گیارہ میں سیالکوٹ میں پیدا ہوئے، آپ کا نام فیض احمد اور تخلص فیض تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم آبائی شہر سے ہی حاصل کی، اس کے بعد گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی میں ایم اے اور اورینٹل کالج سے عربی میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

انیس سو تیس میں لیکچرار کی حیثیت سے ملازمت کا آغاز کیا۔ اس کے کچھ عرصے بعد وہ برٹش آرمی میں بطور کپتان شامل ہوگئے اور محکمہ تعلقات عامہ میں فرائض انجام دیئے۔اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے فوج کو خیرباد کہا۔ اس کے بعد وہ واپس شعبہ تعلیم سے منسلک ہوگئے۔

فیض نے قلم کاری کا آغاز شاعری سے کیا اور اردو اور پنجابی میں شاعری کی، بعد میں وہ صحافت سے منسلک ہوگئے اور صدائے حق بلند کی، فیض احمد فیض اردو ادب میں ایک ایسا ممتاز نام ہیں، جنہوں نے سیاسی اور سماجی مسائل کو مختلف احساسات سے جوڑتے ہوئے یادگار رومانوی گیتوں کا حصہ بنا دیا۔

faiz

فیض احمد فیض کی تخلیقات میں نقش فریادی، دست صبا، نسخہ ہائے وفا، زندان نامہ، دست تہہ سنگ، سروادی سینا، مرے دل مرے مسافرسمیت درجنوں شعری مجموعے اور تصانیف شامل ہیں۔ ان کے ادبی مجموعوں کا انگریزی ، فارسی، روسی ، جرمن اور دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے ادبی صورتحال اور ملکی حالات پر مضامین بھی تحریر کئے، جو بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئے۔فیض احمد فیض شروع سے ہی انقلابی ذہن کے حامل تھے، وہ ایک طویل عرصے تک انجمنِ ترقی پسند مصنفین کے سرگرم رکن رہے اورآمریت اور ظلم کے خلاف قلمی جہاد کے ساتھ ساتھ عملی کردار بھی ادا کیا۔

 

FAIZ-2

فیض احمد فیض کی اعلیٰ ادبی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں ملک کا سب سے بڑا سول ایوارڈ نشانِ امتیاز اور سوویت یونین کی جانب سے لینن پرائزعطا کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہیں نگار ایوارڈ اور پاکستان ہیومن رائٹس سوسائٹی کی طرف سے امن انعام سے بھی نوازا گیا۔

ان کے اشعار کی انقلاب آفرینی آج بھی جذبوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہے۔ فیض نے شخصی آزادی اور حقوق کی آواز کچھ اس طرح بلند کی کہ وہ سب کی آواز بن گئی ، فیض  نوبل پرائز کے لیے بھی منتخب ہوئے۔

فیض احمد فیض مارچ انیس سو اکیاون میں راولپنڈی سازش كیس میں گرفتار بھی ہوئے، آپ نے چار سال سرگودھا، ساھیوال، حیدر آباد اور كراچی كی جیل میں گزارے۔ آپ كو 2 اپریل 1955 كو رہا كر دیا گیا ، زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں۔

زنداں نامہ كی بیشتر نظمیں اسی عرصہ میں لكھی گئیں، وہ بیس نومبر انیس سو چوراسی کو تہتر برس کی عمر میں خالق حقیقی سے جا ملے اور لاہور ہی میں گلبرگ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہوئے۔

جو رُکے تو کوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہ  یار ہم نے قدم  قدم  تجھے یادگار  بنا دیا

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں