The news is by your side.

Advertisement

قائم علی شاہ نے وزیراعلیٰ ہاؤس کا گھیراؤ حملہ قراردے دیا

کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف اور آئی جی غلام قادر تھیبو کے بیان کے خلاف ایوان میں ایم کیو ایم اراکین کے اظہار خیال اور اس پر وزیراعلی سندھ کے رد عمل کے بعد ایوان مچھلی بازار بن گیا اور متحدہ قومی موومنٹ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو ایم کیو ایم کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے  کراچی میں کارکنوں کی ماورائے عدالت قتل کے خلاف اظہار خیال کیا اور وزیراعلی سندھ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی قائم علی شاہ سندھ کی حکومت میں کارکنوں کو چن چن کر قتل کیا جارہا ہے، حکومت کو کارکنوں کے قتل کا نوٹس لینا چاہیئے۔

 انہوں نے کہا کہ غلام قادر تھیبو کا بیان ایم کیو ایم کے خلاف سازش ہے، لگتا ہے ایک بار پھر ایم کیو ایم کے خلاف سازش کی جا رہی ہے،وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے خواجہ اظہار کے تیز و تند الزامات کا جواب انتہائی جارحانہ انداز سے دیا۔

 وزیراعلی سندھ نے  کہا کہ ایم کیو ایم کی جانب سے کارکنوں کے قتل کے خلاف وزیراعلی ہاؤس کے سامنے کیا جانے والا احتجاج، احتجاج نہیں بلکہ حملہ تھا جس میں پارٹی رہنماؤں سمیت کارکن رکاوٹیں پھلانگ کر گیٹ تک پہنچ گئے۔

وزیراعلی کے اس بیان پر ایم کیو ایم اراکین نے احتجاج شروع کر دیا، ایک وقت ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے اراکین اسپیکر کے سامنے کھڑے ہو کر نعرے بازی کرتے رہے، اسپیکر کی تمام کوششیں بھی بیکار ثابت ہوئیں۔ ایم کیو ایم اراکین کارروائی کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ایوان سے باہر چلے گئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں