The news is by your side.

Advertisement

قبل ازمسیح قدیم تہذیب کاتاریخی ورثہ ’’سَت گھرا‘‘حکومتی توجہ کامنتظر

چکوال کے علاقے قائد آباد میں واقع قبل تاریخ ازمسیح کا گاؤں امب شریف جو کہ سر سبز اور خوبصورت پہاڑوں پر سطح سمندر سے تقریبا ایک ہزار فٹ بلندی پر واقع ہے یہاں پر بدھ مت مذہب سے تعلق رکھنے والے راجہ امبریک نے ایک خوبصورت قلعہ بنایا راجہ امبریک ہی کے نام سے اس علاقہ کا نام امب رکھا گیا۔

قلعہ کے اندر کشمیری فن تعمیر کی طرز کے تین مندر بھی بنائے جن میں دو مندر آج بھی موجود ہیں بلند مندر کے بارے میں روایات ہے کہ یہ سات منزلہ تھا جس کی تین منزلیں آج بھی باقی ہیں جو آج بھی ست گھرا کے نام سے مشہور ہے جس کی تعمیر میں پتھروں پرہندی زبان لکھی گئی ہے سیاح ان مندروں میں لگے بڑے پتھر اوران پر ہندی زبان میں درج اشعار کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں محکمہ آثار قدیمہ کو یہاں سے مجسمے اور گیارہویں صدی عیسوی کے سکے ملے ہیں۔

قلعہ کے چبوترے سے علاقے کا خوبصورت منظر،پرسرارخاموشی آج بھی سیاحوں کا دل موہ لیتی ہے یہاں پراحساس تنہائی شاعروں کے لئے حقیقت سے کم نہیں ۔ یہاں پر آنے والے سیاح امب شریف کے اس تاریخی آثار قدیمہ کو دیکھنے کے لئے آتے تو ہیں لیکن حکومت کی طرف سے اس خوبصورت تاریخی مقام پرعدم توجہی کا شکوہ بھی کرتے ہیں جبکہ امب شریف کو جانے والی ٹوٹی سڑک بھی سیاحوں کے لئے ست گھرا پہنچنے میں دشواری کا باعث بنتی ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث آہستہ آہستہ منہدم ہوتے قلعہ کی شکستہ عمارت اورطویل حفاظتی دیوار کے نشانات آج بھی موجود ہیں، تاریخی اعتبار سے یہ قلعہ وادی کا قیمتی اثاثہ ہے لیکن محکمہ آثار قدیمہ کی عدم توجہی کے باعث یہ قیمتی اثاثہ ضائع ہو رہا ہے۔

اسی قلعہ سے راجہ سیفل اور اسکی محبوبہ کی داستانیں بھی مشہور ہیں اس قلعہ کے نیچے سے اک چشمہ بہتا ہے جس کے میٹھے پانی سے یہاں کی آبادی مستفید ہو رہی ہے۔ یہ بہت خوبصورت جگہ ہے لیکن سڑک نہ ہونے کی وجہ سے سیاحوں کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اگرحکومت نے توجہ نہ دی توبدھ مت دور کی یہ عظیم یادگار بہت جلد ضائع ہو جائے گی اور ہماری آنے والی نسلیں اس تاریخی مقام سے محروم ہو جائیں گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں