The news is by your side.

Advertisement

قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد، آج اہم اجلاس طلب

اسلام آباد: دہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد کے لیے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے آج اہم اجلاس طلب کرلیا ہے۔

اجلاس میں وفاقی سیکریٹری داخلہ، نیشنل کوآرڈینیٹر نیکٹا سمیت دیگر حکام شریک ہوں گے، پلان پر اب تک ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔

اجلاس میں قومی ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے اب تک کی پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا، اجلاس میں آئندہ کا لائحہ عمل بھی طے کیا جائے گا، اس کے علاوہ صوبوں اور افواج میں ہم آہنگی، امن و امان سمیت دیگر امور پر بات چیت کی جائے گی۔

دوسری طرف موبائل کمپنیوں کو سموں کی دوبارہ تصدیق اور مشکوک سموں کو بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،  حکومت نے ملک میں موبائل فونز کی سموں کی تصدیق کا فیصلہ کرلیا ہے، جو دو مرحلوں میں ہوگی۔

اس سے قبل اسلام آباد میں وزیرِخزانہ اسحاق ڈار کی زیرِ صدارت اجلاس ہوا، جس میں وزیر ِمملکت انوشہ رحمان اورموبائل کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی، اجلاس میں دس کروڑ تیس لاکھ سموں کی تصدیق دومرحلوں میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

پہلے مرحلے میں حساس علاقوں میں سموں کی دوبارہ تصدیق کی جائیگی اور دوسرے مرحلےمیں پورے ملک میں سموں کی دوبارہ تصدیق کی جائیگی، سموں کی تصدیق کیلئےایس ایم ایس اور میڈیا کے ذریعےمہم چلائی جائیگی۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی میں اکیسویں آئینی ترمیم دو سو سینتالیس اراکین کی حمایت سے منظور کر لی گئی تھی، ایوان میں موجود کسی رکن نے مخالفت میں ووٹ نہیں دیا، بعدازاں ایوان نے آرمی ایکٹ مجریہ انیس سو باون میں ترامیم کی منظوری بھی دے دی گئی تھی۔

قومی اسمبلی کے آج کے اجلاس میں اکیسویں آئینی ترمیم کا ترمیم شدہ مسودہ منظوری کیلئے پیش کیا گیا ، جسے بحث کے بعد دو سو پینتالیس اراکین کی متفقہ رائے سے منظورکر لیا گیا جبکہ مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑے۔

حکومت نے مسودہ میں جے یو آئی کی جانب سے مذہب اور فرقے کا لفظ نکالنے کا مطالبہ مسترد کردیا، رائے شماری میں جماعت اسلامی، جے یوآئی ف، تحریکِ انصاف اور شیخ رشید احمد نے حصہ نہیں لیا۔

آئینی ترمیم کی منظوری کے فوری بعد ہی آرمی ایکٹ مجریہ  1952میں ترمیمی بل بھی منظور کر لیا گیا تھا، اکیسویں آئینی ترمیم کا بل ہفتے کو قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تھا، پیر کو اس پر بحث ہوئی جبکہ آج اسے منظوری کے بعد سینیٹ بھیج دیا گیا، جہاں منظوری کے بعد صدر کے دستخط سے یہ قانون بن جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں