site
stats
اہم ترین

قیادت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا، کارکن قائد منتخب کرلیں، الطاف حسین

لندن: ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کردیا اور ذمہ داران سے کہا کہ وہ نیا قائد چن لیں۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے نائن زیرو پر پارٹی ذمہ داران کا ہنگامی اجلاس طلب کرتے ہوئے قیادت سے دستبردار ہونے پر اصرار کیا، الطاف حسین نے پارٹی زمہ داران کو قیادت چھوڑنے کا فیصلہ سنایا، اس سے قبل بھی متعدد بار الطاف حسین کارکنان کے اجلاس میں پارٹی کی قیادت سے دستبردار ہونے کا اعلان کرچکے ہیں مگر کارکنان کے اصرار پر قیادت نہیں چھوڑی۔

ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ گزشتہ 40 سالوں سے گالیاں سن رہا ہوں لیکن اب نہیں سن سکتا، بہت سوچ سمجھ کر پارٹی قیادت چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ذمہ داران کو آج ہی نئی قیادت کا انتخاب کرنا ہوگا اور فاروق ستار کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ سنیئر ارکان میں سے ہیں۔

الطاف حسین نے کہا کہ قیادت سے دستبرداری کے بعد کوئی گالی بھی دے تو افسوس نہیں رہے گا، انکا کہنا تھا کہ انہوں نے آخری بار خطاب کی زحمت دی ہے، مجھ پرعمران فاروق اورعظیم طارق کے قتل کا الزام لگایا گیا۔

نائن زیرو پر خطاب کرتے ہو ئے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نےعمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

  الطاف حسین کا کہنا تھا کہ این اے دو سوچھیالیس کا نتیجہ تبدیل کیا گیا تو پاکستان کے اختتام کے دن شروع ہو جائیں گے، عمران خان کے لگائے گئے تمام الزامات غلط ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ عمران خان نے الزام لگایا کہ الطاف حسین ولی خان بابر کا قاتل ہے جب کہ وہ ولی بابر کو جانتے تک نہیں تھے۔

ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ کارکنان کی خاطر25  سال سے جلاوطنی کاٹ رہا ہوں لیکن عمران خان مجھے کہتے ہیں کہ بزدل رہنماء ڈر کر لندن بیٹھا ہے، عمران خان نے دھرنے میں کہا تھا کہ تبدیلی آنے تک گھرنہیں جاؤں گا لیکن شادی کے بعد ان کا انقلاب اور کنٹینر دونوں غائب ہوگئے۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کو اُن کی دو گھنٹے تقریر کرنے پر اعتراض ہے، وہ بتائیں کہ میڈیا نے دھرنوں کی اتنی زیادہ کوریج کیوں کی۔

الطاف حسین نے کہا کہ بنی گالہ کے پاس عمران خان نے پی ٹی آئی کے کارکنوں کو پولیس پر تشدد کرکے چھڑالیا تھا کیونکہ شریف برادران کے بقول عمران خان کے پیچھے فوج کا ہاتھ ہے۔

الطاف حسین نے یمن کی صورتحال پر وزیرِاعظم سے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ پاکستان نے پانچ جنگیں لڑیں لیکن کسی نے پاکستان کی مدد نہیں کی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top