The news is by your side.

Advertisement

لاہور: پولیس لائنز کے قریب زوردار دھماکہ، 8افراد جاں بحق

لاہور: صوبائی دار لحکومت لاہور میں قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز کے قریب زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے 8افراد جاں بحق  جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے، جس پولیس اور ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ کی جانب روانہ ہوگئی ہے، دھماکہ کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

دھماکہ کی جگہ اور نوعیت کا تعین کیا جارہا ہے۔

زرائع کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دھماکہ کی آواز دور دور تک سنی گئی ، جبکہ کئی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے اور قریبی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں میں آگ لگ گئی، پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لےلیا ہے۔

امدادی ٹیموں نے لاشوں اور زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا جبکہ فائر بریگیڈ کے عملے نے امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے گاڑیوں میں لگی ہوئی آگ پر قابو پایا۔

دھماکے کے بعد لاہور کے تمام اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی، 10زخمیوں کو میو اسپتال منتقل کیا گیا، اسپتال زرائع کے مطابق کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔

سی سی پی او کے مطابق دھماکہ پولیس لائن کے گیٹ کے سامنے کھڑی گاڑی میں ہوا، دھماکا خیز مواد گاڑی میں نصب کیا گیا تھا۔

ڈی آئی جی آپریشنز حیدر اشرف کا کہنا ہے کہ مطابق دھماکہ خود کش یا بارود نصب بھی ہوسکتا ہے،دھماکہ سے متعلق تفتیش شروع کردی گئی ہے ، انکا کہنا تھا کہ دھماکہ کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا، تفتیش کے بعد ہی وجوہات معلوم ہوسکیں گی۔

لاہور میں دہشتگردی قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز کی پارکنگ میں ہوئی، یہ جگہ شملہ پہاڑی اور ریلوے پولیس ہیڈکوارٹرز کے درمیان واقع ہے، اہم تنصیبات اورسیکورٹی اداروں کے دفاتر کی وجہ سے سخت سیکورٹی انتظامات اور جگہ جگہ ناکے ہیں، پولیس لائنز کے قریب ریڈیو پاکستان اور لاہور پریس کلب واقع ہے۔ قریب ہی بی بی پاک دامن کا مزار ہے۔

دھماکے کے بعد مختلف سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا ہے۔

سی سی پی او لاہور کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق دھماکہ خود کش لگتا ہے، حملہ آرو کا سر اور دھڑ مل گیا ہے۔ حملہ آور پولیس لائن میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ ناکامی پر دہشت گرد نے پولیس لائن کے باہر دھماکہ کیا۔

پولیس اور دیگر اداروں نے شواہد اکٹھے جمع کرنے شروع کردیئے ہیں۔

لاہور پولیس لائنز میں دھماکے کے بعد قریبی اسکول میں بچے خوفزدہ ہوگئے جبکہ  اپنے بچوں کی خیریت جاننے کیلئے مائیں دیوانہ وار اسکول پہنچیں۔

ایک بچے کی روتی ہوئی ماں کا  کہنا تھا کہ بچوں کو کچھ نہ ہو، ایسا لگا ہم مر گئے، آخر کیسے ایسے حالات میں اپنے لخت جگر کو اسکول بھیجیں، آخرکب سیکیورٹی ملے گی؟ حفاظت کرنے والے ہی نشانہ بن جائیں تو ہم کہاں جائیں۔

میو اسپتال کا دورہ کرتے ہوئے مشیر صحت خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ زخمیوں کو تمام سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔

ایم ایس میو اسپتال ڈاکٹر امجد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک بچے سمیت سات زخمیوں اور چار لاشوں کو اسپتال لایا گیا، ڈاکٹر خالد مسعود کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں ایک خاتون پولیس کانسٹیبل بھی شامل ہیں، دہشتگردی کے واقعہ کے بعد اسپتالوں کی سیکیورٹی سخت کری گئی ہے۔

لاہور کے علاقے قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز دھماکے کے فوری بعد کی سی سی ٹی وی فوٹیج اے آر وائی نیوز نے حاصل کرلی ہے۔
فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لاہور کے علاقے قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز کے علاقے میں روزمرہ کے کام جاری تھے کہ بارہ بجکر پینتیس منٹ اور چھ سیکنڈ پر دھماکا ہوا، دھماکا اتنا زوردار تھا کہ دور دور تک آواز سنی گئی، جائے وقوعہ سے قریب ایک پٹرول پمپ کی اے آر وائی نیوز کو حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکے سے افراتفری پھیل گئی۔

لوگ حواس باختہ ہوگئے اور ادھر اُدھر بھاگنے لگے ہر کوئی اپنی جان بچانے کیلئے محفوظ مقام کی طرف بھاگ رہا تھا۔

آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا نے کہا ہے کہ خودکش بمبار پولیس لائن کے باہر بڑے ٹارگٹ کا انتظار کر رہا تھا اور کھمبے کیساتھ کافی دیر کھڑا رہا، انکا کہنا تھا کہ حملہ خودکش تھا، جس میں پانچ سے آٹھ کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا، پنجاب کے مختلف اضلاع میں خودکش حملوں کی اطلاعات ہیں۔

وزیرِاعظم نواز شریف اور وزیراعلٰی پنجاب شہباز شریف نے لاہور میں سول لائنز دھماکے کی مذمت کی ہے، وزیرِاعظم نے پنجاب حکومت سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے، نواز شریف نے دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے افسوس کا اظہار کیا۔

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے لاہور کے علاقے پولیس لائن قلعہ گجر سنگھ کے باہر گاڑی میں بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور دھماکے میں متعدد افراد کی شہادت اور زخمی ہونے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

قبل ازیں 4 ماہ پہلے لاہور میں واہگہ بارڈر پر بھی ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا جس میں 60 افراد شہید ہوئے تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں