لاہور میں تباہ کن بارش، 19 افراد جاں بحق -
The news is by your side.

Advertisement

لاہور میں تباہ کن بارش، 19 افراد جاں بحق

لاہور: ملک بھر میں بارشوں سے سڑکیں زیر آب اور نظام زندگی درھم برھم ہوگیا ہے، پنچاب میں بارش سے چھتیں گرنے اورکرنٹ لگنے سےانیس افراد جاں بحق ہوگئے۔

لاہورمیں گزشتہ شام سے جاری بارشوں نے تباہی مچادی ہے، مخلتف علاقوں میں بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ بجلی کی بندش سے شہریوں اور مریضوں کا رات جاگ کر گذارنی پڑی، موسلادھار بارشیں کئی زندگیوں کے چراغ گُل کرگئیں۔

لاہور کے علاقے چاہ میراں میں دومنزلہ مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے چھ افراد کی زندگی ملبے تلے دب گئی جبکہ جوہر ٹاؤن میں مکان کی چھت گرنے سے ایک بچہ جاں بحق ہوگیا۔

گجرانوالہ میں بارش کے باعث چھت گرگئی،  بچی سمیت تین افراد موت کی وادی میں گم ہوگئے، سیالکوٹ بھی ان بارشوں کی تباہی سے بچ نہ پایا ۔

گرین ٹاؤن اور گوہدپور میں چھت گرنے سے دو بچوں سمیت چار افراد ہلاک ہوگئے، ڈسکہ میں کئی گھنٹوں سے جاری بارش سے کرنٹ لگنے سے لڑکی جاں بحق جبکہ منچن آباد میں موسلادھاربارش نے چارکچےمکان کو ملبہ بنادیا، جوہر ٹاؤن شوق چوک کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک طالب علم جان کی بازی ہار گیا۔

لاہور، اوکاڑا، منڈی بہائوالدین ، حویلی لکھا، میرپور آزاد کشمیر اور پنجاب کے دیگراضلاع میں موسلادھاربارش سےسڑکیں اورنشیبی علاقے زیرآب آگئے ہیں۔

بارش کے پانی سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، جس کے باعث سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں، سڑکوں پر پانی جمع ہونے سے متعدد گاڑیاں اور ایمبولینسیں پانی میں پھنس گئیں، موسلا دھار بارش کے باعث سو سے زائد بجلی کے فیڈر ٹرپ کرنے سے لاہور شہر کا بیشر علاقہ بجلی سے محروم ہو گیا، شہر کے متعد اسپتالوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

گوجرانوالا میں بھی وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، کامونکی میں مکان کی چھت گرنے سے ایک ہی خاندان کے تین افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے،  بارش سے نہ صرف شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے بلکہ شہر کے پوش علاقے بھی تالاب کا منظر پیش کرنے لگے ہیں۔

بارش کے باعث کاروبار ذندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے اور شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، محکمہ موسمیات کے مطابق بارش کاسلسلہ تین روز تک جاری رہنے کا امکان ہےجبکہ دریاؤں میں سیلاب کی وارننگ بھی جاری کر دی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں