site
stats
اہم ترین

لاہور: گرجا گھروں میں خودکش دھماکوں کے2 علیحدہ علیحدہ مقدمات درج

لاہور: یوحنا آباد دو مختلف چرچز میں ہونے والے دھماکوں کے مقدمات درج کر لئے گئے۔

لاہور کے تھانہ نشتر ٹاون میں پادری ارشاد اور فرانسز ارشاد کی مدعیت میں دو علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کر لئے گئے ہیں، مقدمات انسداد دہشت گردی، قتل اور اقدام قتل کے دفعات کے تحت درج کئے گئے ہیں۔

گذشتہ روز یوحنا آباد میں دو مختلف خود کش دھماکے ہوئے۔  یوحنا آباد میں واقع کرائسٹ اور کیتھولک گرجا گھروں میں دھماکے اس وقت ہوئے جب خصوصی عبادات جاری تھیں کہ یکے بعد دیگرے دھماکے ہوگئے، جس کے نتیجے میں 15 افراد جاں بحق جبکہ 71 زخمی ہوئے تھے، بعد ازاں مشتعل مظاہرین نے دو مشکوک افراد کو بد ترین تشدد کے بعد قتل کر دیا اور آگ لگا دی تھی۔

پاکستان کی مسیحی برادری آج ملک بھر میں یومِ سوگ منانا رہی ہے جبکہ ملک بھر میں مشنری اسکول بھی آج بند ہیں۔

کراچی میں آج تمام مشنری اسکول اور تعلیمی ادارے بند رہے سانحہ یوحنا آباد کے خلاف بشپ آف پاکستان صادق ڈینل کی اپیل پر تمام تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں جبکہ گرجا گھروں میں خصوصی عبادات کا اہتمام کیا گیا، مسیحی کمیونٹی کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

شارع فیصل پر نکالی جانیوالی ریلی کے باعث بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور شہری کئی گھنٹے تک ٹریفک جام میں پھنسے رہے، شارع فیصل پر نکالی جانیوالی ریلی بلوچ پل سے شروع ہوکر گورا قبرستان پر اختتام پزیر ہوئی شرکاء نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔

شرکاء نے مطالبہ کیا کہ دہشتگردی کے واقعات میں ملوث اصل افراد کو گرفتار کیا جائے ، کراچی میں سینٹ جوزف، سینٹ پیٹرک، سینٹ لارنس کالجوں سمیت مختلف نجی مسیحی اسکول بند رہے۔

صادق ڈینیل کا کہنا ہے کہ حملہ پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے اور مسیحی کمیونٹی اس صورتحال میں صبر و تحمل سے کام لی۔

سانحہ لاہور کے خلاف مسیحی برداری نے احتجاجاً مشنری اسکولز بند کردیئے گئے ہیں، سانحہ لاہور کے خلاف مسیحی برداری آج کوئٹہ میں احتجاجی ریلوں کا انعقاد کریگی اور تمام چرچز میں دعائیہ تقریبات کاانعقاد بھی کیا جائے گا ،ضلعی انتظامیہ کے مطابق دعائیہ تقریبات اور ریلیاں کو سیکورٹی فراہم کردی گئی ہے۔

بشپ آف پاکستان صادق ڈینئیل کا کہنا ہے کہ چرچ پر خودکش حملے ملک کو کمزور کرنے کی سازش ہیں، دھماکوں کے کیخلاف ملک بھرمیں یوم سوگ منائیں گے۔

آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا کا کہنا ہے کہ واقعہ واہگہ اور پولیس لائنز دھماکے سے ملتا ہے خودکش حملوں کے بعد مظاہرین کے خلاف پولیس نے بڑے نقصان سے بچنے کے لئے ایکشن نہیں لیا، ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس وہاں موجود نہیں تھی تو اہلکار شہید اور زخمی کیسے ہوئے۔


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top