The news is by your side.

Advertisement

لاہوریوحنا آباد میں چرچزپر دھماکے،10 جاں بحق، متعددزخمی

لاہور: فیروز پورروڈ پر یک کے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں 12 سالہ بچے سمیت دس افراد جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

 تفصیلات کے مطابق فیروز پور روڈ سے ملحقہ علاقہ یوحنا آباد میں کرائسٹ چرچ اور کیتھولک چرچ کے نزدیک یک کے بعد دیگرے دو دھماکے ہوئے  ہیں۔

دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اوراس کے بعد علاقے میں خوف وہراس پھیل گیا، دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ریسکیوٹٰیمیں جائے وقعہ کی جانب روانہ ہوگئیں ہیں۔

تاحال دھماکے کی نوعیت معلوم نہیں ہوسکی ہے، تاہم ریسکیو زرائع کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جبکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے ۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے ایک حملہ آورنےچرچ میں گھسنے میں ناکامی پرخود کو اڑایا، عینی شاہدین کاکہنا تھا پہلا دھماکہ کیتھولک چرچ اور دوسرا کرائسٹ چرچ میں ہوا، دھماکےکےوقت مسیحی افراد عبادت میں مصروف تھی۔

یوحنا آباد مسیحی برادری کا علاقہ ہے اور اتوار کے روز انکی مذہبی رسومات انجام دی جارہی ہوتی ہیں۔

دھماکے کی جگہ پر افراتفری کا عالم ہے اور چرچ میں موجود لوگوں کے عزیزواقارب بھی اسپتال اور جائے دھماکہ پر پہنچناشروع ہوگئے جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں بھی مشکلات کا سامناہے۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سیکیورٹی سخت کردی گئی، اسپتال ذرائع کے مطابق ایمرجنسی نافذ کرکے ڈاکٹروں کو طلب کرلیاگیاہے ۔

یوحنا آباد کے دو گرجا گھروں میں دھماکے کے بعد مشتعل افراد نے دو مبینہ حملہ آوروں کو پکڑ لیا، غصے سے آگ بگولہ لوگوں نے دونوں ملزمان کو تشدد کے بعدزندہ جلا دیا۔
دھماکے کے بعد لوگ مشتعل ہوگئے اور جائے وقوع سے دو مبینہ حملہ آوروں کو پکڑ لیا، پولیس نے مداخلت کی لیکن مشتعل افراد نے کسی کی ایک نہ سنی اور حملہ آور کے مبینہ ساتھیوں کو مار مار کر لہو لہان کردیا۔

مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں کو نشان عبرت بنا دیں گے، پولیس کا کہنا ہے تحقیقات کے بعد اصل حقائق سامنے آئیں گے کہ یہ دونوں واقعی حملہ آور کے ساتھی تھے یا بے گناہ تشدد کا نشانہ بنے۔

لاہور کے علاقے یوحناآباد میں بم دھماکوں کے بعد مشتعل افراد نے غصہ حکومت پر نکالا، مشتعل افراد کا کہنا تھا کہ  ہمارے پیاروں کا کیا قصورتھا جو انہیں خون میں نہلا دیا گیا، بے گناہ مر رہے ہیں وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کیا کر رہے ہیں۔ مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔

پولیس ذرائع کاکہناہے کہ حملہ آوروں کی تعدادتین سےچار تھی۔جنہوں نےکیتھولک اورکرائسٹ چرچ کےدروازوں پردھماکےکئے۔

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف، وزیراعلی پنجاب میاں محمد شہباز شریف، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، سربراہ تحریک انصاف عمران خان، وزیرداخلہ چوہدری نثار، سابق صدر پرویز مشرف سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے واقعے کی مذمت کی ہے۔ جبکہ وزیراعلی پنجاب شہباز شریف نے زخمیوں کو علاج معالجے کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں