The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ڈسکہ کیخلاف احتجاج پُرتشدد شکل اختیارکرگیا

سیالکوٹ: ڈسکہ میں دو وکلاء کے قتل کے خلاف لاہور میں وکلاء نے شدید احتجاج کیا اور پنجاب اسمبلی کے گیٹ کے سامنے آپے سے باہر ہوگئے، وکلاء نے پولیس وین سمیت گاڑیوں کی توڑ پھوڑ اور اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

ڈسکہ بار کے صدر سمیت دو وکلاء کے قتل کے خلاف پاکستان بار کونسل کی اپیل پر ملک بھر کی طرح لاہور میں بھی وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا، قتل ہونے والے دونوں وکلاء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی، جس کے بعد پنجاب اسمبلی تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔

ریلی کے شرکاء نے گو نواز گو اور گوشہباز گو کے نعرے لگائے جبکہ مشتعل وکلاء نے پنجاب اسمبلی کے اندر گھسنے کی کوشش کی تاہم گیٹ بند ہونے کی وجہ سے اس پر پتھراؤ اور ڈنڈے برسائے، وکلا نے مرکزی گیٹ پر واقع شیڈ کو بھی آگ لگادی دے، جسے بڑی مشکلوں سے بجھایا گیا۔

احتجاج ختم ہونے کے باوجود وکلاء کے ایک گروپ نے کئی گھنٹے مال روڈ کو بلاک رکھا، سڑک پر ٹائر جلا کر اور اینٹیں رکھ اسے بلاک کردیا، اس موقع پر وکلاء نے ایلیٹ فورس کی گاڑی کو ڈنڈے اور اینٹین مار کو مکمل طور پر تباہ کردیا اور اسے آگ لگادی۔

وکلاء رہنما بار بار مشتعل وکلاء کو سمجھاتے رہے مگر وہ پرتشدد کارروائیوں سے باز نہ آئے، وکلاء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ڈی پی او سیالکوٹ اور متعلقہ ڈ ی ایس پی وکو معطل کیا جائے جبکہ پندرہ دن میں قاتل ایس ایچ او کا فیصلہ کرکے سزا دی جائے۔

ساتھیوں کے قتل پر مشتعل وکلاء نے سیالکوٹ کی سڑکوں کومیدان جنگ بنادیا، سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا اور جگہ جگہ ٹائر جلائے

 مال روڈ پر احتجاجی وکلاء نے اپنا غصہ پولیس موبائل پر اتارا۔ پولیس والے وکلاء کو آتے دیکھ کر موبائل چھووڑ کر بھاگ چکے تھے۔

ڈسکہ واقعے کے خلاف وکلا نے ملتان کی کچہری چوک پر احتجاج کیا۔ اس دوران وکلاء نے پولیس کیخلاف شدید نعرے بازی کی،  قصورمیں وکلاء نے ڈسٹرکٹ بار سے احتجاجی ریلی نکالی، مشتعل وکلاء نے توڑ پھوڑ بھی کی تاہم پولیس منظرِعام سے غائب رہی۔

گوجرانوالہ ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء نے بھی شدید احتجاج کیا اور ڈی سی آفس کا مین گیٹ توڑ کر اندر گھس گئے، وکلاء نے ہاتھوں کی زنجیر بنائے احتجاجی واک بھی کی اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

سرگودھا ڈسٹرکٹ بار کے وکلاء نے واقعے کے خلاف احتجاجی واک کی،  اٹک میں بھی وکلاء کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی، جس میں وکلاکی ایک بہت بڑی تعداد شریک تھی،  ڈسٹرکٹ بارخوشاب کے وکلاء نے ڈسکہ واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور قاتلوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔

چیچہ وطنی میں بھی وکلاء برادری سانحہ ڈسکہ کے خلاف سڑکوں پرنکل آئی، ریلی میں وکلاء کی بڑی تعداد نے شرکت کی، کراچی سمیت اندرونِ سندھ کے تمام شہروں میں بھی وکلابرادری نے عدالتوں کابائیکاٹ کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں