site
stats
اہم ترین

مفتی عثمان یار سمیت چھ افراد کراچی میں قتل

کراچی  میں ایک بار پھر دہشت گردی کا سوئچ آن ہوگیا۔۔۔۔فائرنگ اور پرتشدد واقعات میں  چھ افراد جاں  کی بازی ہار گئے جبکہ تین  افراد زخمی ہوئے۔

کراچی میں آپریشن جاری ہے لیکن ٹارگٹ کلنگ ہے کہ نہیں قابو آرہیہے آج بھی سیاسی بنیادوں پر چار افراد کا قتل عام شہر کی مصروف ترین سڑک شاہراہ فیصل پر ہوا۔

پولیس حکام کے مطابق شارع فیصل لال قلعہ کے قریب نامعلوم موٹرسائیکل سوار ملزمان نے ایک کار پراندھا دھند فائرنگ کردی۔۔۔تین مقتولین کی شناخت  مفتی عثمان،رفیق اورمحمد علی کے ناموں سے ہوئی ہے۔مقتولین کا تعلق مولانا سمیع الحق کی جماعت جے یو آئی ایف سے تھا۔

تینوں کی لاشیں جناح اسپتال پہنچائی گئیں۔۔۔ان تین افراد کے علاوہ کٹی پہاڑی، مکا چوک اور لیاری میں تین مزید افراد نامعلوم ٹارگٹ کلرز کا نشانہ بنے۔۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا سوئچ ہے کہ روز آن ہوجاتا ہے۔۔رینجرز اور پولیس کےد عوے کے ٹارگٹ کلنگ کم کردی۔۔لیکن نامعلوم دہشت گرد جب چاہتے ہیں جہاں چاہتے ہیں اپنا کام کر جاتے ہیں۔ رینجرز اور پولیس کے پاس لامحدود اختیارات  پھر بھی دہشتگردوں کے سامنے بے بس ہیں۔

 واقعے کے بعد کراچی کے علاقے گلستان جوہر میں مدرسے کے طلبہ نے مشتعل ہوکت دکانیں بند کرادیں اور سڑک پر احتجاج کرکے ٹریفک کی روانی معطل کردی۔

 وزیر اعظم سمیت متعدد سیاسی رہنماوٗں نے جمعیت العلمائے اسلام سمیع الحق گروپ کے رہنما  مفتی عثمان کے قتل پر شدید اظہارِ مذمت کیا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top