site
stats
اہم ترین

کوئی لانگ یا شارٹ مارچ ہمیں اپنے مشن سے نہیں ہٹا سکتا،وزیرِاعظم

اسلام آباد:  نوازشریف نے واضح کیا کہ کوئی بھی غلط فہمی میں نہ رہے، کوئی لانگ اورشارٹ مارچ حکومت کو اس کے مشن سے نہیں ہٹا سکتا ہے۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ  گزشتہ 5 ہفتوں سے دھرنوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پربحث کررہی ہے ،اٹھارہ کروڑعوام کی نمائندگی کرنے والے ایوان نے صورتحال پر تفصیلی غورکیا، دنیا بھرمیں پاکستان کوتماشہ بنایا جارہا ہے۔

 وزیرِاعظم نوازشریف نے کہا ہےکہ پارلیمنٹ کا یہ کردارجہموری پارلیمنٹ کا سنہری ورق ہےاور جہموری قوتوں کیلئے مشعلِ راہ ہے، آئین اورجہموریت کا ساتھ دینے والوں کا شکرگزار ہوں ۔

وزیرِاعظم نے قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ سمیت تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کا شکریہ ادا کیا اورکہا کہ انھوں نے آئین اور جہموریت کا ساتھ دیا، انھوں نے کہا کہ میں وکلاء، صحافیوںاوردانشوروں کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے آئین اورجہموریت کی پاسداری کی، پارلیمنٹ میں آئین شکنی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی گئی ۔

 ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کومشتعل کرکے بغاوت پراکسایا جارہا ہے، پاکستان انتہا پسندی سے نکل کرجدید جہموری ریاست بن رہا ہے۔ شاہراہِ دستور پراشتعال انگیزتقاریرکی جارہی ہے۔

سپریم کورٹ نے شاہراہِ دستورخالی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن سپریم کورٹ کے حکم کو بھی تسلیم نہیں کیا گیااوریہ لوگ کئی دن پارلیمنٹ کےلان میں بیٹھے رہے۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ منتخب ایوان نے احتجاجی سیاست کرنے والوں کوبے نقاب کردیا ہے، دھرنے والوں نے یقین دہانی کے باوجود ریڈزون میں یلغارکی۔

انہوں نے کہا کہ قومی نشریاتی ادارے پی ٹی وی کی عمارت پر حملہ کرکے نشریات بند کر دی گئی اورسامان لوٹا گیا۔

انہوں نے کہا کہ ‘مجھے اقتدار کا کوئی لالچ نہیں ہے یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر قبول کی ہے۔

  وزیرِ اعظم  کا مذاکرات کے حوالے سے کہنا تھا کہ مظاہرین سے مذاکرات کے لئے کمیٹیاں بنائی گئیں، ہم نے اس صورتحال میں بہت صبرو تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ میں اب تک نہیں سمجھ پایا کہ شاہراہِ دستور پر بیٹھی جماعتوں کا ایجنڈا کیا ہے۔

نواز شریف نے واضح کیا کہ کوئی بھی غلط فہمی میں نہ رہے، کوئی لانگ اورشارٹ مارچ حکومت کواس کے مشن سے نہیں ہٹا سکتا ہے۔

وزیرِاعظم نواز شریف کا کہنا ہے ہم نے بڑی جدوجہد اور  قربانیوں کے بعد آج یہ جمہوریت حاصل کی ہے، کسی کو بھی جمہوریت پر کلہاڑا چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ شاہراہ دستورکو خالی کرانا نا تو کل حکومت کے لے مشکل تھا اور نا آج مشکل ہے لیکن  پارلیمنٹ میں موجود تمام جماعتوں نے صبرو تحمل سے کام لیا، عوامی تحریک اور تحریکِ انصاف کے بیشترمطالبات مان لئے ہیں ،حکومتی لچک کے باوجود بیان بازی کا سلسلہ جاری ہے،  ملک کو جنگل نہیں بننے دیں گے۔

 وزیرِاعظم نے کہا ہے کہ عوام نے انتشار پھیلانے والوں کو تنہا کر دیا ہے، حکومت بات چیت کے جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف نے صرف 30 نشسوں پر دھاندلی کی شکایت کی اور تیس نشستوں میں سے بیس نشستوں پر مسلم لیگ ن نے کامیابی حاصل کی ، اگر بیس نشستوں پر دھاندلی ثابت ہو بھی جائے تو بھی حکومت کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

نواز شریف کا کہنا ہے کہ چھ ماہ قبل وہ عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ گئے تھے، جہاں مختلف ایشوز پر تبادلہ خیال کیا گیا لیکن عمران خان نے کسی قسم کی دھاندلی کی بات نہیں کی، سمجھ نہیں آتا کہ چھ ماہ بعد اچانک سے یہ دھاندلی کی بات کہاں سے آگئی۔

وزیرِاعظم  نے کہا کہ ہم عوامی خدمت کا سفر ہمیشہ جاری رکھیں اور اس ملک کو ایسا جنگل نہیں بنے دیں گے جہاں جس کی لاٹھی اور اس کی بھنس کا قانون چلے۔

۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top