منورحسن نوجوانوں کو قتل وغارتگری پراُکسا رہے ہیں،ایم کیو ایم -
The news is by your side.

Advertisement

منورحسن نوجوانوں کو قتل وغارتگری پراُکسا رہے ہیں،ایم کیو ایم

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی پاکستان اورلندن کے اراکین کاایک مشترکہ ہنگامی اجلاس ہوا،جس میں جماعت اسلامی کے سابق امیر منورحسن کی تازہ ترین تقریرمیں قتل وغارتگری کے درس کی شدیدالفاظ میں مذمت کی گئی۔

اجلاس میں کہاگیاکہ جماعت اسلامی کے سابق امیر منورحسن نے آج لاہورمیں مینار پاکستان کے سائے میں ہونیو الے جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یہ کہاہے کہ ”مسائل کاحل جہاد اورقتال فی سبیل اللہ میں ہے،جمہوری سیاست سے حالات پر قابونہیں پایاجاسکتا، جہاد اورقتال فی سبیل اللہ کے کلچر کوعام کیاجائے “۔

رابطہ کمیٹی نے منورحسن کے اس بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان پہلے ہی مذہبی انتہا پسندی اوردہشت گردی کے نرغے میں ہے اوراس وقت پاکستان کوامن کی سب سے زیادہ ضرورت ہے لیکن منورحسن آج جماعت اسلامی کے سالانہ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے نوجوانوں کوقتل وغارتگری پراکسا رہے ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

رابطہ کمیٹی نے کہاکہ منورحسن کے اس بیان سے جماعت اسلامی کااصل مقصداورخفیہ پروگرام ایک بارپھرعوام کے سامنے آگیاہے اوراس سے یہ بات سمجھناکوئی دشوارنہیں کہ پاکستان میں داعش کی نمائندگی کون کررہاہے اورداعش کے قتل وغارتگری کے پیغام کوکون پھیلارہاہے۔رابطہ کمیٹی نے کہا کہ وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار بھی اگرمنورحسن کے بیان پرغورکرلیں توانہیں بھی بخوبی معلوم ہوجائے گاکہ پاکستان میں داعش کاکردارکون ادا کررہا ہے ۔

رابطہ کمیٹی نے کہا کہ وزیرستان میں حالیہ ڈرون حملوں میں مارے جانیوالے دہشت گردوں سے جماعت اسلامی کے تعلق سے بھی صاف ظاہر ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے ساتھ ملکرپاکستان میں دہشت گردی کون کررہاہے۔

رابطہ کمیٹی نے پاکستان کے صدر، وزیراعظم،وفاقی وزیرداخلہ ، چیف آف آرمی اسٹاف، چیف آف نیول اسٹاف اور چیف آف ایئراسٹاف سے مطالبہ کیاکہ جماعت اسلامی کے سابق امیرکے سنگین بیان کافی الفورنوٹس لیاجائے۔

رابطہ کمیٹی نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سے بھی اپیل کی کہ منورحسن کی جانب سے عوام کو قتل وغارتگری پراکسانے کا فی الفورسوموٹولیاجائے۔ رابطہ کمیٹی نے تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں،انسانی حقوق کی تنظیموں اورسول سوسائٹی سے بھی اپیل کی کہ وہ بھی منورحسن کے بیان کانوٹس لیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں