موجودہ جمہوریت سے مشرف کی آمریت بہتر تھی، عمران خان -
The news is by your side.

Advertisement

موجودہ جمہوریت سے مشرف کی آمریت بہتر تھی، عمران خان

اسلام آباد: عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے فوج کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے عوام کی فوج کھڑی ہے۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ دھرنے کے شرکاء سے خطاب کے دوران پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے کارکن پکڑے جارہے ہیں، چیف جسٹس صاحب ازخود نوٹس لیں۔

چیف جسٹس سے مخاطب ہوتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس صاحب یہ وقت مظلوم عوام کو انصاف دینے کا ہے، دھاندلی چھپانے کے لئے قانون کا استعمال کیا جارہا ہے میں پوچھتا ہوں کہ کس قانون کے تحت کارکنان کو گرفتار کیا جارہا ہے، احتجاج کرنا ہمارا جمہوری حق ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے کنٹینرز ہٹانے کا کہا تو کنٹینرزکیوں نہیں ہٹائے جارہے ہیں؟۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ڈبل سواری پر پاندی لگا دی تاکہ زیادہ لوگ جمع نہ ہوجائیں، نواز شریف سے پوچھتا ہوں کیوں ڈررہے ہو اورکس سے ڈررہے ہو؟  یہ لوگ اس ملک کے شہری ہیں، کہا جارہا ہے کہ دھرنے میں دہشتگردی کا خطرہ ہے، مجھے دہشتگردوں سے خطرہ نہیں ، مجھے نواز شریف کی دہشتگردی سے خطرہ ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہ نام نہاد جمہوری لوگ فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کررہے ہیں، آج فوج نے پھر واضع کردیا کہ ان دھرنوں نے کوئی تعلق نہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے فوج کی ضرورت نہیں ہے میرے سامنے عوام کی فوج کھڑی ہے ۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ افتخار چوہدری کی بحالی کے لئے سب سے آگے تھا، افتخار چوہدری پر بھروسہ کیا لیکن وہ جمہوریت کے میر جعفر نکلے، میچ فیکسنگ میں افتخار چوہدری کا ہاتھ تھا، افتخار چوہدری نے نظریں جھکائی تو سمجھ گیا کہ میچ فکس ہے،افتخار چوہدری اورمیر شکیل ملک کے دشمن ہیں۔ میرشکیل کو پنجاب پولیس پروٹوکول دے رہی ہے

عمران خان کا کہنا تھا کہ مشرف نے بھی ایسا نہیں کیا جو موجودہ حکومت کررہی ہے، مشرف کی ڈکٹیٹر شپ بھی نواز شریف کی حکومت سے بہت بہتر تھی، نواز شریف دھاندلی چھپانے کے لئے جمہوریت کے پیچھے پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب بھی تبدیلی آتی ہے تو دو طبقے لے کر آتے ہیں ایک نوجوان اور دوسری خواتین، انہوں نے کہا کہ نوجوانوں ! کل سب یہاں پہنچو یہ تمہارے مستقبل کی جنگ ہے، یہ مت سمجھو کہ اس ملک سے باہر چلے جائیں گے، تم لوگ پاکستان میں ہی عزت حاصل کر سکتے ہو، نکلو اور میرا ساتھ دوکیونکہ سب سے بڑی ذمہ داری تو تمہاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں