The news is by your side.

Advertisement

طالبان سے مذاکرات ہوسکتے تو دھرنا والوں سے کیوں نہیں، مشاہد حسین

اسلام آباد:  مسلم لیگ ق کے رہنما مشاہد حسین سید نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  اچھی بات ہے کہ اس بحران میں فیصلے پارلیمنٹ نے کئے ہیں ،مشترکہ سیشن کے اچھے نتائج سامنے آرہے ہیں۔

سینٹر مشاہد حسین نے کہا ہے کہ جمہوریت ہی ہمارے ملک کا  مستقبل ہے،انھوں نے کہا کہ جب مودی اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کیے جاسکتے ہیں تو دھرنے کے والوں سے کیوں مذاکرات نہیں کیے جاسکتے۔

مشاہد حسین نے اسپیکر سے درخواست کی کہ تحریکِ انصاف کے استعفے منظور نہ کیے جائیں۔

مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان خود جہموری عمل سے وجود میں آیا ہے، حکومت نے عمران اور قادری سے مذاکرات کا فیصلہ اچھا کیا ہے۔ اچھی بات ہے کہ تمام معاملات سیاسی جماعتیں مل کر حل کر رہی ہے، انھوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ بحران کا پر امن حل ںکل آئے گا۔

انہوں نےکہا موجودہ مسائل کوئی ایک شخص، اداراہ یا جماعت حل نہیں کرسکتی ۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ روز تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ میں آئے جو نیک شگون ہے،اس صورتحال میں ہمیں تحمل اوربردباری سے کام لینا چاہیے۔ چین ناصرف ہمارا دوست ہے بلکہ اس وقت ملک کی ترقی میں بھی اہم کردارادا کرنا چاہتا ہے، آئندہ ہفتے چین کے صدر پاکستان آرہے ہیں اورکئی اہم معاہدوں پر پیش رفت ہوگی۔

مشاہد حسین نے کہا کہ پہلی مرتبہ سپریم کورٹ اورحکومت جی ایچ کیو کے کنٹرول میں نہیں ہیں، پاکستان میں پہلی بار آزاد عدلیہ موجود ہے۔

انکا کہنا ہے کہ نوجوان طبقے کو بہتر مستقبل فراہم کرنے کی ضرورت ہے ، ملک کی اکثریت نوجوان ہے جو تبدیلی چاہتی ہے، وزیرستان کے آئی ڈی پیز پر زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں