The news is by your side.

Advertisement

میرے خلاف ملک دشمنی کے ثبوت ہیں تو بخوشی برطانیہ کو دے دیں، الطاف حسین

کراچی: ایم کیوایم کے قائد الطاف حسین نےکہا ہے کہ گورنرسندھ کوہٹانےکی کوئی اطلاعات نہیں ہیں، ایم کیوایم کے خلاف ثبوت ہیں توبرطانیہ کودیےجائیں، انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اے آروائی نیوز کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں اینکر پرسن کاشف عباسی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے متحدہ قومی مومنٹ کے قائد الطاف حسین نے اپنی شکایت ریکارڈ کرواتے ہوئے کہا کہ آپ کو ایم کیو ایم کا کوئی نمائندہ نہیں ملتا اور آپ غیر اہم شخصیات کوموقع دیتے ہیں۔ جس کے جواب میں اینکر کاشف عباسی کا کہنا تھا کہ ہم نے ایم کیو ایم کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی سے رابطہ کیا تھا لیکن انہوں نے شام سات بجے تک ہمیں کسی نمائندے کی شرکت کی تصدیق نہیں کی گئی۔

کاشف عباسی کی شکایت کا جواب دیتے ہوئے الطاف حسین کا کہنا تھا کہ اگر مقامی رہنما مصروف ہوں تو آپ لندن سے رابطہ کرلیا کریں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشنل کمیشن میں بہت تاخیر ہوگئی ہے اور میرا ذاتی خیال ہے کہ اس کے کوئی مطلوبہ نتائج نہیں نکلیں گے۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں بھی الیکشن کمیشن کو لگتا ہے کہ کسی حلقے میں دھاندلی ہوئی ہے تو وہ حلقے کھولیں مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ اطلاعات ہیں کہ چوہدری نثار نے برطانیہ کو ثبوت دیئے ہیں، وفاق ، صوبے یا کسی بھی شخص کے پاس اگر ملک دشمنی کے ثبوت ہیں تو وہ برطانیہ کو شوق سے دے مجھے کوئی اعتراض نہیں۔

گورنرسندھ  سے متعلق سوال  کے جواب میں انہوں نے کہا کہ لوگ آتے اور چلے جاتے ہیں،میں نے کسی سے اشارتاً بھی نہیں سنا کہ گورنر اپنا بوریا بستر لپیٹ لیں اور نہ ہی انہیں ہٹائے جانے کی کوئی اطلاعات میرے پاس ہیں۔

صولت مرزا سے متعلق  سوال میں الطاف حسین نے کہا کہ صولت مرزا کو بہت پہلے پارٹی سے نکال دیا گیا تھا، اس کی کئی ویڈیوز پہلے بھی منظرعام پر آ چکی ہیں تاہم یہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا کہ ڈیتھ وارنٹ کے بعد ڈیتھ سیل سےکسی شخص کی ویڈیو منظرعام پرآئی ہے۔

اینکر پرسن ارشد شریف کے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جیسی زیادتی ہمارے ساتھ ہوئی ہے ایسی کسی کے ساتھ نہیں ہونی چاہیئے، البتہ اگر کسی کے پاس ٹھوس ثبوت ہیں تو وہ ضرور پیش کرے ، تیئس مارچ کی پریڈ سے متعلق آرمی چیف کی خدمات کو سراہتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی چیف کا اقدام پاکستان کی طرف میلی نظر سے دیکھنے والوں کے لئے ایک واضح تنبیہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں