site
stats
اہم ترین

نائن زیرو پرچھاپہ: ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسیبن کا ردعمل

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے قائد نے پارٹی کے مرکزی دفتر نائن زیرو پرچھاپے کے ردعمل میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں کچھ لوگ قانون سے ماورا ہیں۔

انہوں نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کو بھی تنبیہہ کی کہ دہشت گردوں کی پارٹی میں کوئی گنجائش نہیں رابطہ کمیٹی آئندہ کا لائحہ عمل طے کرے۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ’پارٹی کے تمام سیاسی اور سماجی خدمت کے معاملات رینجرزکے سپرد کردیتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ چند لوگوں نے پارٹی کو بدنام کیا ہوا ہے جن لوگوں نے غلطیاں کی ان کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیئے، نائن زیرو کوبدنام کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آج نائن زیرو پررینجرز کے چھاپے کے دوران جو کچھ ہوا ہے اس کے لئے بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کواپنی آوازاٹھانی ہوگی۔

ان کا کہنا تھا کہ علم کے شوقین طالب علم کو رینجرز اہلکارنے گولی مارکرشہید کردیا اورنجی ٹی وی کے کیمرہ مین کو زخمی کیا گیا جبکہ ساٹھ سے افراد کو گرفتارکرلیا گیا۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ نائن زیرو پرتمام ترکاروائی کسی سرچ یا گرفتاری وارنٹ کے بغیر کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بد قسمتی سے کچھ افراد تو قانون کے دائرے میں آتے ہیں اور کچھ افراد قانون کی زد بن جاتے ہیں ، انہیں ہر قسم کے ظلم اورزیادتی کی اجازت مل جاتی ہے۔

انہوں نے کارکنوںکو یاد دہانی کرائی کہ کراچی میں جاری قتل و غارت گری کے خلاف ہم نے ہی فوجی آپریشن کا مطالبہ کیا تھافوج تو نہیں آئی لیکن رینجرز نے آپریشن شروع کردیا۔

انہوں سوال کیا کہ آج تک پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کہ گھر پراس طرح چھاپہ مارکرتوڑپھوڑ کی گئی،’ایم کیو ایم ملک کی تیسری بڑی سیاسی جماعت ہے تو کیا ہم مسلمان اورپاکستان کے شہری اورمسلمان نہیں ہیں جو ان کے ساتھ اس طرح کاسلوک روا رکھا جارہا ہے‘۔

انہوں نے یہ بھی کہاکہ جب چھاپے مارے جاتے ہیں تو انتہائی نازیبا اورناقابلِ بیان زبان استعمال کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے افتخار چوہدری کی سربراہی میں رولنگ دی تھی کہ کراچی کہ جس علاقے میں بھی امن و امان کے مسائل ہیں اس کے ذمہ دار سیاسی جماعتوں کے مسلح ونگ ذمہ دار ہیں، تو کیا ایم کیو ایم کے علاوہ کسی اورجماعت پریہ آپریشن اس اندازمیں کیا گیا اوروہاں بھی ایسی ہی نازیاب زبان استعمال کی گئی؟۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’میرے گھر پر1992 سے اب تک 100سوسے زائد چھاپے مارے گئے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ میرے ستر سالہ بزرگ بھائی کو شہید کیا، میرے شہید بھتیجے کے سرپرکلہاڑی کا وار کرکے سر کے دو ٹکڑے کردئیے گئے، ہزاروں کارکن شہید ہوئے یہاں تک کہ قبرستان کے قبرستان آباد ہوگئے اور آج ان میں وقاص شاہ کا اضافہ ہوگیا پھر بھی ہم نے صبرواستقامت کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

انہوں نے سوال کیا کہ اگررینجرزجرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائی کرنے نائن زیرو آئی تھی تو وہاں سے چند قدم کے فاصلے پر واقع میری سب سے بڑی بیماربہن کے گھرکیا کرنے گئے تھے جہاں سوائےاٹینڈینٹ کے اورکوئی بھی موجود نہیں تھا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top