site
stats
اہم ترین

نظام کی تبدیلی موجودہ پارلیمنٹ سے ممکن نہیں، ڈاکٹرطاہرالقادری

اسلام آباد: پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹرطاہرالقادری نے انقلاب مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام خواب غفلت سے بیدار ہو گئے، ان کو سمجھ آ گئی کہ انقلاب کیا ہے۔

اسلام آباد میں دھرنے کے شرکاء سے خطاب میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ دھرنے میں شرکت کیلئے بیرون ملک سے لوگ آئے ہیں، جنہیں خوش آمدید کہتے ہیں، بہت سے لوگ عوامی تحریک کے شرکاء کیلئے فنڈز دینا چاہتے ہیں لیکن وہ یہاں آنے سے گھبرا رہے ہیں۔

عوام سے اپیل کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ لوگ انقلاب مارچ کے شرکاء اور سیلاب متاثرین کیلئے فنڈز جمع کرائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سینکڑوں کی تعداد میں غیر مسلم مسیحی برادری بھی انقلاب مارچ میں آ گئی ہے،  ہماری جدوجہد جمہوریت کے خلاف سازش نہیں، یہ مذہبی تحریک نہیں، یہ پاکستان کے کروڑوں عوام، ہر مذہب اور مکتبہ فکر کے حقوق کی تحریک ہے۔

ڈاکٹرطاہرالقادری کاکہناہےنظام کی تبدیلی موجودہ پارلیمنٹ سےممکن نہیں، قوم کوپتہ چل گیا حکمران جھوٹ بول رہے ہیں، موجودہ نظام جمہوریت نہیں بدترین آمریت ہے، موجودہ اسمبلیاں لٹیروں اور جاگیرداروں کی اسمبلیاں ہیں، چاہتا ہوں بھوکوں اور پیاسوں کے نمائندے بھی پارلیمینٹ میں بیٹھیں، میں جل کر راکھ بھی ہو جاﺅں تو لاکھوں چراغ جل جائیں گے، موت آ جائے، پروا نہیں، کروڑوں لوگ تو جاگ جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریت ایسا نظام ہے، جہاں ہر شخص کو کھانا ملے لیکن یہاں ایک ہی گھر کے چار چار لوگ اقتدار میں ہیں، جب تک قوم کو برابر حقوق نہیں ملتے الیکشن شفاف نہیں ہو سکتے، بھوکے عوام کو تنگ نہ کرو، لاوا پھٹا تو اعلان جنگ ہو جائے گا، بزدل حکمرانوں کی گولی سے بہتر بہاد رجوانوں کی گولی کھانا ہے، اعلان جنگ کیا تو بہادر جوانوں کی گولی کھانے کو ترجیح دیں گے، چاہے جان چلی جائے، میں مردہ قوم کو جگانا چاہتا ہوں، اپنی زندگی عزیز نہیں، قوم کا عزت سے جینا عزیز ہے۔

طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ میں نظام کی تبدیلی چاہتا ہوں، پہلے معاشی جمہورت لائی جائے ، پھر سیاسی جمہوریت آئے گی، میں ظلم کے نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہوں، معاشرے میں سب کو برابری کی بنیاد پر حقوق دینا چاہتا ہوں کیونکہ سب کو برابر حقوق ملیں گے تو جمہوریت ہو گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top