site
stats
اہم ترین

نواز شریف جلد گھٹنے ٹیکنے والا ہے، عمران خان

اسلام آباد:  عمران خان نے کہا کہ ملک میں انتشار نہیں چاہتےتھے،کسی قسم کی رکاوٹ آزادی مارچ کو نہیں روک سکتی۔

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سارے ظالم جمہوریت کے نام پر اکٹھے ہو گئے ہیں اور پارلیمنٹ کا رونا رو رہے ہیں، مگر میں ان سے پوچھتا ہوں کہ راستے روک کر اور میرے بینادی حقوق معطل کر کے یہ کون سے آئین کی خدمت کر رہے ہیں؟ جب اس ملک میں احتساب کی بات ہوتی ہے ان کو جمہوریت کی یاد آ جاتی ہے۔موجودہ حکمرانوں کو آئین اور قانون کی نہیں بلکہ کرسی کی فکر ہے ۔

انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن ابتداء ہی سے سیاستدانوں کو خرید کر سیاست کرتی رہی ہے، ان کے خلاف عدالتوں اور کمیشنوں نے فیصلے کئے مگر ان کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔ نواز شریف نے نگراں حکومت سے مل کر دھاندلی کی، دھاندلی کے لئے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ساتھ ملایاگیا، الیکشن سے دو دن قبل محبوب انور کو الیکشن کمشنر پنجاب منتخب کیا گیا ،جس نے دھاندلی میں اہم کردار ادا کیا۔

سرکاری ملازمین سے مخاطب ہوکرکہا کہ  ایسا کوئی حکم قبول نہ کریں جس میں ان کو عوام سے ٹکرانے کا کہا جائے، آفتاب چیمہ کے بیٹے تیمور چیمہ کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے اپنے والد کو کہا کہ اس کو ان پر فخر ہے کہ انہوں نے حکومت کا عوام پت تشدد کا حکم نہیں ماننا۔

اپنی شادی کے حوالے سے دیئے گئے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میرے شادی کے بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر لیا گیا، شادی کا بیان کا مطلب اپنی ذاتی خوشی تب تک نہیں مناؤں گا جب تک نیا پاکستان نہیں بنتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ظلم کا نظام رائج ہے اور 80 فیصد پاکستان میں سیورج کا نام نہیں، ملک میں اتنا ظلم ہو اور ہم خوشیاں منائیں یہ ممکن نہیں خوشیاں تب منائیں گے جب ظالموں کو اقتدار سے الگ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے جزبوں کو نہ تو یہ رکاوٹیں شکست دے سکتی ہیں اور  نہ یہ پولیس، اگر تحریک انصاف کے ٹائیگرز کو حکم دوں تو پولیس اور کنٹینرز سمیت ہر چیز کا مقابلہ کر سکتے ہیں ، مگر ملک میں انتشار نہیں پھیلانا چاہتا کیونکہ یہ سب ہمارا اپناہے مگر اس سب کو ایک جعلی وزیر اعظم نے یر غمال بنا رکھا ہے۔نوجواں! حکمرانوں کے ناجائز حکم کو کبھی نہ ماننا، کوئی ظالم حکمران تبدیلی کو نہیں روک سکتا۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top