The news is by your side.

Advertisement

نومنتخب گورنرپنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ کا سیاسی سفر

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کی گورنری کے لئے ملک محمد رفیق رجوانہ کو منتخب کرلیا ہے، ملک رفیق رجوانہ مسلم لیگ ن کے دیرینہ رکن ہیں۔

ملک محمد رفیق رجوانہ

رفیق رجوانہ20 فروری 1949 کو ملتان میں پیدا ہوئے،انہوں نے گیلانی لاء کالج سے قانون اور ایف سی کالج لاہور سے اکانومک میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

گیلانی لاء کالج

انہوں نے اپنے کیرئرکا آغاز بحیثیت عدالتی افسر کے تحت کیا۔ ان کے عوام کے فلاح و بہبود کے شوق کے سبب انہوں نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی حیثیت سے استعفیٰ دے دیا اورسیاست میں عملی قدم رکھا۔

رفیق رجوانہ نے 1979 میں میونسپل کونسلر کے الیکشن میں حصہ لیا اور کامیاب قرار پائے، 1985 میں انہوں نے ملتان سے صوبائی اسمبلی کی نشست پر انتخابات میں حصہ لیا اور شکست کھا گئے۔

رفیق رجوانہ 1996 سے لے کر 97 تک لاہورہائی کورٹ بارایسوسی ایشن ملتان کے صدر رہے۔

رفیق ایک نامور وکیل ہیں اور لاء فرم کے مالک بھی ہیں۔ انہوں نے کئی تاریخ سازکیسز کی پیروی کی ہے جن میں میاں نواز شریف کے متعدد کیسز، میمو گیٹ اور الیکشن کے اخراجات سے متعلق کیسز بھی شامل ہیں

آپ 1997 میں رفیق تارڑ کی خالی کی ہوئی نشست پر مسلم لیگ ن کی جانب سے سینٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے اور 2003 تک عہدے پرفائز رہے۔

مسلم لیگ ن کا پارٹی پرچم

آپ اس وقت مسلم لیگ لاء میکرز ونگ کے نائب صدراورسنٹرل ایگزیکیٹو کمیٹی کے ممبربھی ہیں۔

مارچ 2012 میں آپ ایک بار پھر سینٹ کے ممبر منتخب ہوئے اور 7 مئی 2015 کو وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں گورنر پنجاب متخب کرلیا۔

سینٹ آف پاکستان

رفیق رجوانہ بحیثیت سینیٹر ایوانِ بالا کی مندرجہ ذیل کمیٹیوں کے ممبر رہے ہیں۔

کمیٹی برائے خارجہ امور
کمیٹی برائے قانون انصاف اور انسانی حقوق
کمیٹی برائے حکومتی ضمانت یافتہ اسکیمیں
کمیٹی برائے نچلی سطح پر اختیارات کی تفویض
کمیٹی برائے سینٹ کی ایوان کمیٹی
کمیٹی برائے دستور العمل اور مراعات

گورنر ہاوٗس پنجاب

رفیق رجوانہ پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے پنجاب کے 35 ویں گورنر متنخب ہوئے ہیں اور ان سے قبل گورنر کے فرائض چوہدری محمد سرور انجام دے رہے تھے جنہوں نے جنوری 2015 میں اپنے عہدے استعفیٰ دے دیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں