site
stats
اے آر وائی خصوصی

نو محرم الحرام، کربلا میں بھوک پیاس کا عالم

تاریخِ اسلام میں کئی ایسے مواقع آئے جب کہ اسلامی تشخص کے لیے جان و مال کی قربانی پیش کرنے کی ضرورت ہوئی۔

ماہِ محرم، امام حسین علیہ السلام سے منسوب ہے، آپ کی شہادت سے دل حزین ہے، اتنے سال گزرے لیکن اشک ہیں کہ تھمتے نہیں، امام حسین علیہ السلام کی قربانی بے مثال ہے، آپ باطل کے مقابلے میں ڈٹ گئے۔

واقعہ کربلا نے قیامت تک کیلئے حق کی فتح اور باطل کی شکست پر مہر ثبت کردی ہے، اکسٹھ ہجری نومحرم کا دن خانوداہ رسالت اور دشت کربلا میں بھوک پیاس کا عالم تھا۔ ہزاروں سپاہیوں پر مشتمل لشکر یزید چھوٹے سے حُسینی لشکر کا گھیراو کیئے ہوئے تھا مگر وہ پھر بھی خوفزدہ تھے، سینوں میں ان کے دل وحشی بلیوں کی طرح اُچھل رہے تھے، لشکر یزید کے سالارفتح کے بعد انعام اکرام کا لالچ دے کر سپاہیوں کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔

دوسری طرف خیام حُسین میں حمدو ثنا خدائے بزرگ برتر تھی، دلوں اور روحوں کا اطمینان کامل تھا کہ جانتے تھے حُسین امام حق ہیں ، خیام حُسینی میں شب عاشور ، عبادت اور مناجات کی رات تھی ، قربانیوں کی تیاری کی شب تھی، جس کی قبولیت کی سند کیلئے یہی کافی ہے کہ چودہ سو سال یہ دن یزید کی شکست اور حُسین کی فتح کا اعلان کررہا ہے۔

امام حسین علیہ السلام

امام حسین علیہ السلام  پیغمبر خدا حضرت محمد مصطفےٰ کے چھوٹے نواسے علی و فاطمہ زہرا کے چھوٹے صاحبزادے تھے۔ ان کے بارے میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ‘حسین منی و انا من الحسین’ یعنی ‘حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔

پیغمبراسلام کی گود میں جو اسلام کی تربیت کاگہوارہ تھی اب دن بھردو بچّوں کی پرورش میں مصروف ہوئی ایک حسن دوسرے حسین اور اس طرح ان دونوں کا اور اسلام کا ایک ہی گہوارہ تھا جس میں دونوں پروان چڑھ رہے تھے . ایک طرف پیغمبر ُ اسلام جن کی زندگی کا مقصد ہی اخلاق انسانی کی تکمیل تھی، امام حسین کی عمر ابھی چھ سال کی تھی جب انتہائی محبت کرنے والے کاسایہ سر سے اٹھ گیا۔

امام حسین علیہ السلام سلسلہ امامت کے تیسرے فرد تھے، عصمت و طہارت کا مجسمہ تھے- آپ کی عبادت, آپ کے زہد, آپ کی سخاوت اور آپ کے کمال ُاخلاق کے دوست و دشمن سب ہی قائل تھے،  پچیس حج آپ نے باپیادہ کئے- آپ میں سخاوت اور شجاعت کی صفت کو خود رسول اللہ نے بچپن میں ایسا نمایاںپایا کہ فرمایا» حسین میں میری سخاوت اور میری جراَت ہے،  چنانچہ آپ کے دروازے پر مسافروں اور حاجتمندوں کا سلسلہ برابر قائم رہتا تھا اور کوئی سائل محروم واپس نہیں ہوتا تھا- اس وجہ سے آپ کا لقب ابوالمساکین ہو گیا تھا۔

امام حسین ؑ نے دین کی حفاظت اور شریعت ِ الٰہی کے تحفظ کے لئے اور قرآن و اسلامی قوانین کی صورتوں کو مسخ ہونے سے بچانے کے لئے  کربلا کے میدان میں قیام کیا۔  امام حسین ؑ کے جہاد کو میں تاریخ انسانی کا سب سے بڑا جہاد کہتا ہوں، اس لئے کہ ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیا نے اسی سلسلے میں محنت کی کہ اسلام کا تحفظ ہو اور شریعت ِ الٰہی کا دفاع ہو سکے اور یہ کام امام حسین ؑ نے کربلا میں اپنی اور  اپنے ساتھیوں کی شہادت کے ساتھ  انجام دیا اور ساری دنیا کو ہمیشہ کے لئے حق و باطل کا فرق بیان کیا اور حق کی راہ میں سر کٹوانے کا درس دیا۔

امام حسین علیہ السلام کی چند احادیث؛

امام حسین علیہ السلام  فرماتے ہیں کہ زندگی کا کوئی اعتبار نہیں جس قدر ممکن ہو دوسروں کے کام آؤ۔

امام حسین علیہ السلام  فرماتے ہیں کہ اگر دنیا میں انقلاب لانا چاہتے ہو تو تہزیبِ نفس کا آغاز خود سے کرو دنیا خود بدل جائے گی۔

امام حسین علیہ السلام  فرماتے ہیں کہ نیک لوگ اپنے انجام سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔

امام حسین علیہ السلام  فرماتے ہیں کہ ظلم کے خلاف جتنی دیر سے اُٹھو گے اتنی ہی قربانیاں دینی پڑے گی۔

امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو تمہیں دوست رکھتا ہے وہ برائی سے روکے گا اور جو تمہیں دشمن رکھے گا وہ تمہیں برائی پر ابھارے گا

یہ بات یقیناً  ناقابل ِ انکار ہے کہ امام حسین ؑ کا عمل کربلا میں اسلام کی عزت اور شریعت کے دفاع کے لئے تھا اور یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی انسان رسول اکرم ؐ کی گود میں پرورش پائے اور  اسلام کے زوال اور اس کی تباہی پر وہ خاموش رہے۔ امام ِ امت ہونے کی حیثیت سے یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ اسلام کے تحفظ کے لئے ضروری اقدامات کریں اور اس کی اصل و حقیقی صورت کو بحال رکھیں۔ امام حسین ؑ نے اس کام کو بخوبی انجام دیا۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top