The news is by your side.

Advertisement

نیا پاکستان بنے گا توملک میں انصاف کا نظام رائج ہوگا، عمران خان

اسلام آباد: عمران خان نے کہا ہے کہ نواز شریف ایک نظام کا نام ہے اوروہ نظام میثاقِ جمہورت معاہدہ تھا۔

اسلام آباد میں آزادی دھرنے سے خطاب کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہناتھا کہ آج بتانا چاہتا ہوں کہ ہم کیوں نکلے ہیں تاکہ ذہنوں میں کوئی ابہام نہ رہے، پاکستان میں انسانوں کے حقوق ایسے ہیں جیسے دوسرے ممالک میں جانوروں کی حقوق ہوتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ نواز شریف ایک نظام کا نام ہے اوروہ نظام میثاقِ جمہورت معاہدہ تھا، جو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان ہوا تھا، ہم اس نطام کے خلاف نکلے ہیں، ہم اسمبلی میں بیٹھ کر ان سے نہیں لڑسکتے تھے۔

عمران خان  نے کہا کہ ان حکمرانوں نے اخبارخریدا ہوا ہے، ججج کو خریدے ہوئے ہیں، پی ٹی وی کو ان کا اپنا ہے ہے،ان کا مقابلہ صرف عوام کرسکتی ہے، چوالیس دن میں مجھے سب سے زیادہ خوشی ملی ہے کیونکہ عوام جاگ اٹھی ہے جس پر میں نفل ادا کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ جب زرداری حکومت آئی تھی تو ہر پاکستانی  35 ہزار کا مقرض تھا جب وہ گیا تو 70 ہراز کا ہر پاکستانی مقروض تھا،پچھلے ڈیرھ سال میں ہر پاکستانی 85 ہزار کا مقروض ہوگیا ہے۔ جتنے ٹیکس لگتے ہیں اس کا 60فیصد قرضوں میں جاتا ہے 25 فوج کو جاتا ہے ، 15  فیصد عوام کے لئے رکھا جاتا ہے، حکمران کو عوام کی فکر نہیں ہے، اگر اللہ نے مجھے موقع دیا تو جب تک عوام کا قرضہ نہ پورا کرتا میں باہر نہیں جاوں گا، امام خمینی کبھی اپنے ملک سے باہر نہیں گئے

عمران خان کا کہنا تھا کہ ایک چیز آپ نے اپنے کپتان سے سیکھنی ہےکہ کوئی چیز نا ممکن نہیں ہے ، جب میں سیاست میں آیا سب نے کہا کہ بے وقوف ہے، جب نئے پاکستان کی بات کی تو لوگ کہتے ہیں نیا پاکستان ممکن نہیں ہے، ایک آدمی جب تک ہار نہیں مانتا ہار اس کو ہرا نہیں سکتی ، میں بڑے بڑے مگرمچھوں کو پکڑوں گا ایک ایک کو سزا دلاوں گا ، میں 200ارب ڈالر واپس پاکستان لاوں گا، میاں صحاب سرمایہ کاری کے لئے باہر جاتے ہیں، میاں صحاب پہلے اپنا پیسہ تو باہر سے واپس لائیں۔

کپتان نے کہا کہ ہم اس دلدل سے نکلے گئے اپنا عدل وانصاف کا نظام لائیں گئ، قائد اعظم اس ملک میں عدل وانصاف چاہتے تھے، ہم پولیس کے نظام کو بہتر بنائیں گے، ’حضرت علی نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ جج کی تنخوا اتنی ہو کہ اسے رشوت نہیں پڑی‘، انہوں نے کہا کہ آپ کی طاقت بیرون ملک پاکستانی ہے، ہم اس ملک کا گورںر سسٹم ٹھیک کر کے دیکھائیں گے، نئے پاکستان میں سب سے زیادہ تعلیم پر پیسہ خرچ کرنا ہے۔

عمران نے خطاب کے آخر میں نوجوانوں سے کہا کہ ہم نے چار باتیں یاد رکھنی ہیں۔

ہم نے سچ بولنا ہے کیونکہ سچ انسان کی عزت کرواتا ہے ۔

ہم نے خوف کی زنجیروں کو توڑنا ہے ۔

ہمیں اپنی ’میں‘ پر قابو پانا ہے

ہمیں سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ کہنا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں