site
stats
انفوٹینمنٹ

وائی فائی کی لہریں اور شعاعیں کس حد تک خطرناک ؟

وائی فائی کی لہریں کس حد تک صحت کے لیے مضر ہیں، اس کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟ اس کی وجہ سے صحت پر کون کون سے خطرات عارض ہوتے ہیں؟ ذہنی عوارض اور دماغی کینسر، کی اہم ترین اثرات میں سے ہے۔ اس سلسلے میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے کہ  کس طرح کام کرتا ہے۔ ہم سبھی یہ جانتے ہیں کہ وائی فائی کے سگنلز موڈم سے شروع ہوتے ہیں اور پی سی پہ جاکر ختم ہوجاتے ہیں، بالکل موبائل فون اور بلوٹوتھ کی لہروں کی طرح لیکن موبائل فون کی لہروں کے برخلاف  سگنلز بدن کے کسی خاص حصے پہ مرکوز نہیں ہوتے ہیں جب کہ موبائل فونز کو چونکہ صارف اسے اپنے کان اور سر کے پاس قرار دیتا ہے اس لیے اس کی لہروں کا اثر براہ راست انسان کے سر اور دماغ پر پڑتا ہے، کہ جسے اس کی کھوپڑی کی ہڈیاں مغز تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی ہیں۔

آپ ہمیشہ اپنے موبائل فون کو اپنے ساتھ لے جاتے ہیں اور ہمیشہ ہی اپنی جیب میں رکھتے ہیں اور رات میں آرام کے وقت آپ اپنے سراہنے ہی رکھتے ہیں، یہ عمل آپ کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے لیکن  میں مسئلہ ذرا الگ نوعیت کا ہے۔

وائی فائی کی ریڈیو لہروں اور موبائل سگنلز کے بارے میں ابھی تحقیقات ہورہی ہیں اور ابھی تک کوئی قطعی نتیجہ ہاتھ میں نہیں آیا لیکن اگر یہ لہریں مضر ہیں تو  کے سلسلے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ چونکہ اس کے سگنلز بدن کے کسی خاص حصے پر مرکوز نہیں ہوتے ہیں اور دوسری طرف سے انسان اور موڈم کے درمیان میں فاصلہ بھی زیادہ ہوتا ہے اس لیے  وائی فائی کی لہریں موبائل فون کی نسبت کم نقصان دہ ہوسکتی ہیں۔

وائی فائی سگنلز سے پیدا ہونے والی شعاعیں انسانی جسم کیلئے خطرناک ہوتی ہے۔

وائی فائی میں ریڈیو سگنلز اور لہریں ہوتی ہیں اس لیے اسے بےضرر نہیں مانا جاسکتا ہے، لیکن بحث اس بات پر ہے کہ کی لہریں موبائل کی لہروں  کے مقابل میں کم نقصاندہ ہیں یا زیادہ۔

محققین نے  کی وائی فائی لہروں پر کافی تحقیقات کی ہیں اور اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ شاید یہ لہریں دماغی کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ سن 2011 میں کینسر ریسرچ کی عالمی تنظیم  نے   کی لہروں کو کینسر پیدا کرنے والے احتمالی اسباب کے زمرے میں قرار دیا تھا لیکن ریڈیو لہروں کے مضر ہونے کے بہت سے اسباب بیان کئے جاسکتے ہیں۔ وائی فائی کی لہریں جب پھیلتی ہیں تو ہر جگہ کو اپنے گھیرے میں لے لیتی ہیں۔

اس سلسلے میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ تحقیقات کی بنیاد پر  کی لہروں سے بڑوں کی نسبت بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور ان میں ذہنی عوارض کے خطرات زیادہ پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ حتی الامکان لہروں کی حامل مشینوں کو بند رکھا جائے یا بچوں کو ان کی لہروں سے دور رکھا جائے تاکہ بچوں پر ہونے والے اثرات کو کم سے کم کیا جاسکے۔

وائی فائی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے چند احتیاط کرسکتے ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ  وائی فائی سگنلز کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، کوئی بھی سو فیصد  کی اثراندازی کو نہیں روک سکتا ہے، دوسری طرف وائی فائی  کا استعمال زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے اس لیے بھی اب اس سے فرار کرنا بےمعنی سی بات ہے۔

اس سلسلے میں صرف  یہی کیا جاسکتا ہے حتی الامکان آپ  وائی فائی سگنلز سے دور رہیں اور یہ اطمینان حاصل کرلیں کہ آپ غیرضروری مواقع پر موڈم اور وائی فائی سے متصل تمام مشینوں کو بند کردیا کریں۔

ایک اور نکتہ یہ بھی ہے کہ آج کل اشتہارات کی مارکیٹ میں  کی لہروں کو کنٹرول کرنے کے نام پر کچھ مشینیں بیچی جاتی ہیں تا کہ اس کے مضر اثرات کو کم کیا جائے مگر یہ کمپنیاں مضر اثرات روکنے کے نام پر فریب سے کام لیتی ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ  کی ریڈیو لہریں اپنا کام کرتی ہیں انہیں روکا نہیں جاسکتا۔

۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top