site
stats
کھیل

ورلڈ کپ سے قبل پاک بھارت کھلاڑیوں کو مشکلات کاسامنا

کراچی: پاکستان کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کے عالمی ایونٹ کے دوران سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کردی ہے۔

قومی ٹیم کے منیجر نوید اکرم چیمہ نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سینٹرل کنٹریکٹ میں درج شرائط کے مطابق دورہ نیوزی لینڈ اور ورلڈ کپ کے دوران کھلاڑیوں کو سوشل میڈیا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ میرا ذاتی طور پر ماننا ہے کہ ان ویب سائٹس پر صرف وہ لوگ موجود ہوتے ہیں جن کے پاس بہت فارغ وقت ہو اور میرا نہیں خیال کہ ہمارے کھلاڑیوں کے پاس کرکٹ پر توجہ اور ورلڈ کپ کپ میں بہتری کارکردگی کے بجائے دیگر چیزوں کے لیے اتنا فارغ وقت ہو گا۔

نوید چیمہ نے کہا کہ جس کسی نے بھی اس قانون کی خلاف ورزی کی اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

’ان کھلاڑیوں کو کرکٹ کے سب سے بڑے مقابلے میں ملک کی نمائندگی کے لیے منتخب کیا گیا ہے اور اپنی 100 فیصد کارکردگی دکھانے اور کھیل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، یہی وجہ ہے کہ یہ پابندی لگائی گئی ہے تاکہ ان کی دھیان نہ بٹے۔

قومی ٹیم کے منیجر نے مزید کہا کہ کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ میں اپنے اہلخانہ کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں ہو گی، کھلاڑیوں کو نیوزی لینڈ اہلخانہ لے جانے کی اجازت دی گئی ہے لیکن انہیں ورلڈ کپ میں فیملیز کو ساتھ رکھنے اجازت نہیں۔

دوسری جانب انگلینڈ کے ہاتھوں عبرتناک شکست کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ حرکت میں آگیا، بی سی سی آئی نے کھلاڑیوں کو ورلڈ کپ کے دوران بیگمات اور گرل فرینڈزکوساتھ لیجانے پرپابندی لگادی۔

بھارتی خبررساں ادارے کے مطابق ورلڈ کپ سے قبل ٹیم کی پرفارمنس نے بورڈ کو جھٹکا دیا تو بورڈ نے بھی کھلاڑیوں کے ہوش ٹھکانے لگادیئے، انگلینڈ سے مایوس کن شکست نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے اوسان خطا کردیئے۔ کھلاڑیوں کی توجہ کھیل پر برقرار رہے بورڈ نے اس کا حل ڈھونڈ لیا

 بی سی سی آئی نے فیصلہ کیا ہے کہ ورلڈ کپ میں بھارتیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لئے نہ تو بیگمات ساتھ ہوں گی اور نہ ہی گرل فرینڈز ساتھ ہونگی۔

بی سی سی آئیکے اس فیصلے پر سابق بھارتی کپتان راہول ڈریوڈ کہتے ہیں ٹیم گیارہ ماہ دورے پر رہتی ہے، بیگمات اور گرل فرینڈز کو ساتھ جانے کی اجازت ہونی چاہیے، خراب پرفارمنس سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top