site
stats
کھیل

ورلڈ کپ 1992 اور 2015 کے درمیان حیرت انگیزمشابہت

آج سے ٹھیک 37 دن بعد کرکٹ میں عالمی جنگ کا آغاز ہونے جارہا ہے، ورلڈ کپ کی تاریخ ایک مرتبہ پھر دہرائی جارہی ہے اور 2015 0کے ورلڈ کپ میں بعض ایسی حقیقتیں سامنے آئیں گی جو 1992 میں دکھائی دی تھیں، آنے والے ورلڈ کپ کی 1992 کے ورلڈ کپ کے ساتھ اتنی حیرت انگیز مماثلت پاکستانی ٹیم کی فتح کی طرف اشارہ ہے۔

ورلڈکپ 1992 میں پاکستان کے وزیرِاعظم  نواز شریف تھے اور آج جب 2015میں ورلڈکپ ہونے جارہا ہے جب بھی  یہ عہدہ میاں نواز شریف کے پاس ہے۔

کرکٹ تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستان نے 1992 میں عمران خان کی قیادت میں ورلڈ کپ اپنے نام کیا، جن کا تعلق میانوالی کے نیازی خاندان سے ہے اور ایک مرتبہ پھر 2015 ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی قیادت کرنے والے کپتان مصباح الحق کا تعلق میانوالی کے ہی نیازی خاندان سے ہے۔

ورلڈ کپ 1992 میں آلروانڈر اعجازاحمد تھے جبکہ ورلڈکپ  2015میں آلروانڈر کے طور پر حارث سہیل ٹیم کا حصہ ہیں۔

ورلڈ کپ 1992 میں عامر سہیل بطور اوپنر تھے جو کہ ساتھ ساتھ باﺅلنگ بھی کر سکتے تھے ایک مرتبہ پھر 2015ورلڈکپ میں محمد حفیظ شامل ہیں، جو اوپنگ کے ساتھ ساتھ باؤلنگ بھی کراسکتے ہیں لیکن پابندی کی وجہ سے اس ورلڈ کپ میں وہ باﺅلنگ نہیں کراسکیں گے۔

ورلڈ کپ 1992 میں لیگ اسپنر مشتاق احمد ٹیم کا حصہ تھے جبکہ ورلڈکپ 2015میں لیگ اسپنر کے فرائض شاہد آفریدی کے سپرد ہیں۔

ورلڈ کپ 1992 میں  مڈل آرڈر بیٹسمین انضمام الحق تھے جس کا تعلق ملتان سے ہے اور ایک مرتبہ پھر  2015 ورلڈ کپ میں سہیب مقصود مڈل آرڈر بیٹسمین ہے، جن کا تعلق بھی ملتان سے ہے۔

تاریخی ورلڈ کپ 1992 میں ایگریسو مڈل آرڈر بیٹسمین کے طور پر سلیم ملک تھے، جن کا تعلق لاہور سے تھا،  ایک مرتبہ پھر ورلڈکپ 2015 میں ایگریسو مڈل آرڈر بیٹسمین عمر اکمل ٹیم کا حصہ ہیں، جن کا تعلق بھی لاہور سے ہے۔

ورلڈ کپ 1992 میں اوپنگ بیٹسمین رمیز راجہ تھے جس کا تعلق لاہور سے تھا، ایک مرتبہ پھر 2015ورلڈکپ میں احمد شہزاد ٹیم کا حصہ ہیں، جن کا تعلق بھی لاہور سے ہے۔

ورلڈ کپ 1992 میں کراچی سے تعلق رکھنے والے معین خان بطور وکٹ کیپر تھے، اس دفعہ ورلڈ کپ 2015 میں سرفراز احمد وکٹ کیپر ہیں، جن کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔

ورلڈ کپ 1992 میں ایکسپیرینس مڈل آرڈر بیٹسمین جاوید میانداد تھے، جن کا تعلق کراچی سے ہے، ایک مرتبہ پھر ورلڈکپ 2015 میں یونس خان مڈل آرڈر بیٹسمین  کے طور پر کھیلیں گے،جن کا تعلق بھی کراچی سے ہے۔

ورلڈکپ 1992 میں فاسٹ باﺅلر وسیم اکرم تھے جو بائیں ہاتھ سے باﺅلنگ کراتے تھے، ایک مرتبہ پھر 2015ورلڈکپ میں محمد عرفان فاسٹ باﺅلر کے طور پر ٹیم میں شامل ہیں، محمد عرفان وسیم اکرم کی طرح باﺅلنگ کرائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top