The news is by your side.

Advertisement

وزیرِاعظم نوازشریف کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس

اسلام آباد: وزیرِاعظم نوازشریف کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے، حکومت نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے عوامی نمائندوں پر مشتمل کمیٹیاں بنانے اورعالمی امداد نہ لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

وزیرِاعظم کی زیرِصدارت وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس ہوا، جس میں امن و امان اور سیلابی صورتحال سے متعلق امور زیرِغور آئے، اجلاس میں سیلاب متاثرہ علاقوں کےعوامی نمائندوں پرمشتمل کمیٹیاں بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جو ریلیف کےلیے طویل اور مختصر مدت کی تجاویز دیں گی، ساتھ یہ بھی طے ہوا کہ اس مرحلے پر عالمی امداد نہیں لی جائے گی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے سیلابی صورتحال پر کابینہ کو بریفنگ دی، اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ سیلاب سے پنجاب کے دس اضلاع متاثر ہوئے، جھنگ، چنیوٹ، حافظ آباد میں زیادہ تباہی ہوئی، سیلابی ریلوں سے دو سو چوہتر افراد جاں بحق، تینتالیس ہزار گھروں کو نقصان پہنچا اور گیارہ لاکھ افراد متاثر ہوئے۔

چئیرمین این ڈی ایم نے اپنی بریفنگ میں مزید کہا کہ پاکستان آرمی، این ڈی ایم اے اور صوبائی ادارے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، امدادی سرگرمیوں میں ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کا استعمال کیا جارہا ہے۔

کابینہ اجلاس میں ریلیف کوششوں پر مسلح افواج سمیت مختلف محکموں خصوصا ریکسیو ڈبل ون ڈبل ٹو کےکردار کو سراہا گیا۔

اس موقع پر وزیرِ اعظم نے کہا کہ سیلاب اور بارشوں کے نقصان کم کرنے پرسرمایہ کاری ہونی چاہیئے، وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ جو رقم معاوضے اور تعمیرِ نو پر خرچ ہورہی ہے، وہ سیلاب سے بچاؤ کی تدابیر پر خرچ کی جائے جبکہ سندھ میں ممکنہ نقصان سے بچاؤ کے پیشگی انتظامات کیے جائیں۔

سیکریٹری داخلہ نے اجلاس کو دھرنوں سے پیدا سیکیورٹی صورتحال پر بھی بریف کیا، اجلاس میں کابینہ نے سینتیس اقتصادی معاہدوں کی منظوری بھی دی گئی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں