site
stats
اہم ترین

وزیرِاعظم کا وزارتِ پیٹرولیم اور وزارتِ خزانہ کا اجلاس طلب

اسلام آباد: پیٹرول بحران کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کیلئے تحقیقات شروع کردی گئیں ہیں، وزیرِاعظم نواز شریف نے پیٹرولیم اور وزارتِ خزانہ کا اجلاس آج طلب کرلیا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنی تمام مصروفیات ترک کرکے متعلقہ وزراء کو طلب کر لیا ہے، وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ وزارء سیمت جو بھی اس بحران کا ذمہ دار ہوگا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی اس وقت سب سے زیادہ مشکل کاسامنا وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کوہے۔

ترجمان وزیراعظم کا کہنا ہے کہ  ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی، عوام کوریلیف دینے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں، ایک دو روز میں پیٹرول کی قلت پر قابو پالیا جائے گا۔

 وزیرِاعظم نے مطلوبہ ذخیرہ نہ رکھنے پرنجی کمپنیوں اور اوگرا پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پی ایس او کے سوارب کے اوور ڈرافٹ کا مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

دورۂ سعودی عرب سے واپسی پر وزیرِاعظم نے پیٹرول بحران کا نوٹس لیتے ہوئے سیکریٹری پیٹرولیم اور ایم ڈی پی ایس او سمیت چا ر افسران کو معطل کردیا۔ معطل ہونے والوں میں سیکرٹری پیٹرولیم عابد سعید اور ایم ڈی پی ایس او امجد جنجوعہ شامل ہیں جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری نعیم ملک اور ڈی جی آئل محمد اعظم کو بھی معطلی کا نوٹس دیدیا گیا ہے۔

حکومتی دباﺅ پر پاور سیکٹر اور پی آئی اے کو تیل کی فراہمی جاری رکھی، پی ایس او کے واجبات پاور سیکٹر پر دوسو ارب تک پہنچ گئے جبکہ پی آئی کے ذمے 15 ارب سے زائدکے واجبات ہیں۔

وزارت پانی و بجلی تمام تر دعووں کے باوجود بلوں کی وصولی بہتر نہ کر سکی۔

یاد رہے کہ پیٹرول کی قلت کے پیشِ نظر پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں سی این جی سٹیشن دوبارہ کھول دیے گئے تھے۔

وفاقی وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ پنجاب کے شمالی اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں پٹرول کی قلت ہے اور پیٹرول کی رسد بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد ہی صورتحال بہتر ہو جائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top