وزیرِاعظم کا خطاب: دھاندلی کے خلاف اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ -
The news is by your side.

Advertisement

وزیرِاعظم کا خطاب: دھاندلی کے خلاف اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ

 اسلام آباد: اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نےقوم سے خطاب کیا اورانہوں نے2013 کے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگنے پر سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس سے تحقیقات کے لئے تین رکنی کمیشن قائم کرنے کی درخواست کردی۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی ترقی کے لئے سیاسی استحکام بے حد ضروری ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان میں ایسے ادوار آتے رہتے ہیں کہ جب جمہوریت پامال ہوتی رہی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایک بھر پور مینڈیٹ کے ساتھ عوام نے ہمیں منتخب کیا اور آج عدلیہ اور تمام آئینی ادارے جمہوریت کی پشت پر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا کہ ایک جمہوری حکومت نے دوسری حکومت کو اقتدار منتقل کیا اور ایک جمہوری صدر جمہوری طریقے سے رخصت ہوا اور دوسرا صدربھی جمہوری طریقہ سے آیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جون 2013 میں جب ہم نے حکومت سنبھالی تھی اس وقت ملک بے پناہ مصائب کا شکار تھا، معیشت کی حالت دگردگوں تھی۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ مسائل حل ہوگئے لیکن گزشتہ چودہ ماہ میں ملک کی معاشی حالت میں استحکام آیا ہے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں کہ جب ملک معاشی استحکام کی راہ پر گامزن ہوا تھا ملک میں سیاسی انتشار پیدا کیا جانے لگا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ آخر اس احتجاج کی وجہ کیا ہے؟ کیا یہ احتجاج اس لئے ہورہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلی بار شرح نمو چار فیصد تک پہنچ گئی ، نوجوانوں کو آسان اقساط پر قرضے فراہم کئے جانے لگے عوامی فلاح کے منصوبے عملی طور پر ہوتے ہوئے نظر آنے لگے، کراچی سے لاہور موٹر وے کے لئے 55 ارب رپے ریلیز کردئے گئے۔ 10 ہزار میگا واٹ بجلی کے معاہدے کئے گئے۔ تربیلا اور ،منگلا ڈیم کی توسیع کی جارہی ہے، آخر ایسا کیا ہواہےجو احتجاج کیا جارہا ہے۔

کیوں ملک کو دوبارہ غربت اور اندھیروں میں واپس دھکیلنے کی سازش کی جارہی ہے؟

میاں نواز شریف نے 2002 اور 2008 کے الیکشن پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ وہ الیکشن کتنے شفاف تھے ہماری پارٹی کو ڈیڑھ درجن نشستوں تک محدود کیا گیا، 2008 میں ان کے اور میاں شہباز شریف کے کاغذات مسترد کئے گئے اور وہ الیکشن میں حصہ نہ لے سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ 2013 کا الیکشن پہلا الیکشن تھا کہ جس میں پہلی بار وسیع پیمانے پر ووٹوں کی تصدیق ہوئی ، مبصرین تعینات ہوئے، ملکی اور غیر ملکی میڈیا نے الیکشن پر نظر رکھی اور دو سو سے زائد مبصرین نے الیکشن کا جائزہ لے کر فیصلہ دیا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کے شفاف ترین الیکشن تھے۔

میاں نواز شریف نے کہا کہ آج ایک مظبوط پارلیمنٹ موجود ہے جو کہ آئین سازی کے لئے ہے اور نظام میں موجود خرابیوں کو دور کرنے پر تیار بھی ہے اوراس کے لئے ایوانِ بالا اور ایوانِ زیریں کے منتخب ارکان پرمشتمل ایک کمیٹی بنائی جاچکی ہے اور اسکی موجودگی میں سڑکوں پر کسی بھی قسم کی اصلاحات کی گنجائش نہیں ہے۔ نہ ہی کسی کو یہ اجازت دی جائے گی کہ ایک ترقی کا عمل جو شروع ہوچکا ہے اس کو برباد کردیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بادشاہت نہیں ہے اورنہ ہی آمریت ہے، بادشاہت سے ہم سرسٹھ سال پہلے نجات حاصل کرچکے اوراب کسی کو اجازت نہیں کہ وہ جتھہ بندی کرکے مذہب کے نام پرلوگوں کی گردنیں کاٹے۔

انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اس ملک کے صحافیوں نے جمہوریت کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں ہیں اور جمہوریت کی بحالی میں ان کا لازوال کردار ہے لیکن موجودہ صورتحال میں میڈیا کو چاہئے کہ وہ ایک بار پھر اپنی پالیسیوں کا جائزہ لے تاکہ وہ حقیقی معنوں میں ملک کاچوتھا ستون بن سکے۔

انہوں نے انتہائی تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک مخصوص جماعت کی جانب سے مسلسل ان پر دھاندلی کا الزامات لگائے جاتے رہے اور اس سلسلے میں ان پر اور ان کی جماعت پر مسلسل الزامات کی بوچھارکی گئی۔ انہوں نے ملک میں جاری سیاسی انتشار کے خاتمے اور دھاندلی کے الزامات کے جواب میں سپریم کورٹ سے تحقیقات کی درخواست کرتے ہوئے تین رکنی کمیشن قائم کرنے کی استدعا کی ہے۔

وزیر اعظم نے خطاب کےآخر میں قوم کو ایک بارپھر جشن آزادی کی مبارک باد دیتے ہوئے وطن ِعزیز کے لئے اپنی نیک تمناوؐں کا اظہار کیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں