کیا پانی کا کاوربار جائز ہے؟ شرعی احکامات جانیے mineral water
The news is by your side.

Advertisement

کیا پانی کا کاروبار جائز ہے؟ شرعی احکامات جانیے

انسان کی زندگی کے لیے تین چیزیں بہت ضروری ہیں جن میں آگ، ہوا اور پانی شامل ہے، اگر یہ تینوں اشیاء دستیاب نہ ہوں تو زندگی کا کوئی تصور نہیں ہے۔

پانی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے جسم میں خون، گوشت اور ہڈیوں کے ساتھ پانی کی بھی خاص مقدار موجود ہے جو اگر زیادہ یا کم ہوجائے تو ہم بیماری میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔

ترقی یافتہ دور میں نت نئی ایجادات کی وجہ سے فضائی اور ماحولیاتی آلودگی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا جس کی وجہ سے زندگی کی بنیادی ضروریاتی اشیاء بھی آلودہ ہوکر رہ گئیں۔


یہ بھی پڑھیں: نہارمنہ گرم پانی پینے کے فوائد


آلودگی سے پاک علاقوں میں صحت مند زندگی کی ایک بڑی وجہ صاف پانی ہے جس سے نہ صرف انسان کا ہاضمہ بلکہ صحت بہت بہتر رہتی ہے اس کے برعکس شہری علاقوں میں فراہم کیا جانے والا پانی آلودہ اور مضر صحت ہوتا ہے۔

مضر صحت پانی سے بچنے کے لیے عام طور پر منرل واٹر یا پھر فلٹر شدہ پانی پینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جسے پیسے کے عوض خریدا جاتا ہے۔

سوال: منرل واٹر کے کاروبار کرنا کیسا ہے؟

شرعی احکامات جاننے کے لیے مسئلہ مفتی اکمل قادری کے سامنے پیش کیا گیا۔

جواب: مفتی اکمل قادری نے کہا کہ پانی انتہائی قیمتی چیز ہے جس کی شریعت نے بھی قیمت مقرر کررکھی ہے اس لیے پانی کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

انہوں نے کہا کہ کاروبار کے لیے یہ چیز مدنظر رکھنا ضروری ہے کہ حکومت نے جو قوانین بنائے ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے،  اگر وہ پورے نہیں ہوں گے تو ایسا پانی منرل واٹر کہہ کر فروخت کرنا شرعی طور پر جائز نہیں بلکہ یہ گناہ ہے۔

ویڈیو دیکھیں

واضح رہے کہ عام پانی کو پینے کے قابل بنانے کے لیے اُس میں منرلز اور کیمیکل ملائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کے عین مطابق ہوتے ہیں تاہم کچھ کاروبار کرنے والے ایسے بھی ہیں جو سادہ پانی کو منرل واٹر کہہ کر فروخت کرتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں