پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پر پابندیاں نئی نہیں -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پر پابندیاں نئی نہیں

کراچی : پاکستانی الیکٹرونک میڈیا کی تاریخ طویل نہیں لیکن ایک تہائی سے زائد دھائی پر مشتمل اس سفر میں کئی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

پاکستانی الیکٹرونک میڈیا پر پابندیاں نئی نہیں جب بھی سرکار کو آئینہ دکھایا گیا تو وہ برا مان گئی، یہی وجہ ہے کہ دو ہزار دو سے روشن ہونے والے میڈیا چینلز کے چراغوں کو پہلی دہائی لوہے کا چنا ثابت ہوئی۔

الیکٹرونک میڈیا کی آزادی کو پہلی ضرب سات نومبر دو ہزار سات کو ایمرجنسی کا بہانہ بنا کر سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں لگائی گئی، جس کے نتیجےمیں کئی نیوز چینلز پابندی کا شکار بنے۔

مارشل لاء کے دور سے لگنے والی پابندیوں کا سلسلہ پھر چل پڑا اور وہی حکمراں جو سینہ پھلاکر میڈیا کو بے مثال آزادی دینے کا دعویٰ کرتے نہ تھکتے تھے ہر موقع پر پیمرا کی صورت میں کبھی سیاسی دباو ڈالتے نظر آئے لیکن گھٹن ، دباؤ اور پابندیوں کے باوجود الیکٹرونک میڈیا ہمیشہ عوام کی آواز بنا رہا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں