پاکستانی سیاست میں احتجاجی دھرنے کوئی نئی بات نہیں -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستانی سیاست میں احتجاجی دھرنے کوئی نئی بات نہیں

کراچی: پاکستان میں سیاسی تاریخ وقفے وقفے سے خودکو دہراتی رہی ہے، دھرنوں اور لانگ کے نتائج میں پہلے بھی حکومتوں کا خاتمہ ہوچکا ہے۔

آج کےسیاسی منظرنامے پرنظر ڈالی جائےتو اندازہ ہوگا کہ پاکستان میں سیاسی تاریخ تھوڑےتھوڑےوقفےبعدخود کو دہراتی ہے۔ 1977ء کے انتخابات میں چند حلقوں پر ہونے والی دھاندلی نے سیاسی افق پر پہلی بار نئی تاریخ رقم کی، پاکستان نیشنل الائنس کی تحریک اورذوالفقار علی بھٹو کے درمیان مذاکرات کامیابی کے نزدیک تھے، پی این اے تحریک کے اہم رکن اصغر خان نےفوج کو عوام کی مدد کے لئے بلانے کا بیان داغ دیا۔

اس وقت بھی آرٹیکل دوسوپینتالیس کی بازگشت سنائی دی اور پھر 5 جولائی سن 1977ء میں مارشل لاء نافذ ہوگیا، بے نظیر بھٹو کی 1996ء میں جانے والی حکومت بھی کچھ اسی قسم کی تحریک کا پیش خیمہ ثابت ہوئی، 27 اکتوبر سن 1996ء میں حکومتی پالیسی سےاختلاف کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں نے دھرنا دیا، جس کے نو روز بعد5 نومبر کوپیپلزپارٹی کےصدر فاروق لغاری نے بے نظیر حکومت کا بوریا بستر لپیٹ دیا۔

سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معزولی کےخلاف چلائی جانے والی وکلا تحریک نےبھی حکومت کوافتخارچوہدری سمیت تمام معزول ججزکی بحال کرنےپر مجبورکردیا، اب ایک بار پھر2013ء کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی اور الیکشن کمیشن نے بھی تسلیم کیا، اب ایک بار پھر اسلام آبادمیں آرٹیکل دوسوپینتالیس ہے، پھر شہراقتدارمیں دھرنوں کا موسم ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت جاتی ہے یا جاتی امرا والے سیاسی راستہ نکالنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

پاکستان کی تاریخ میں اگرچہ کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے سول نافرمانی چلانے کی دھمکی تو دی گئی، لیکن پاکستان کی تاریخ میں اب تک صرف ایک بار ہی سول نافرمانی کی تحریک چلائی گئی، 1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے سول نافرمانی کی تحریک چلائی۔ 1977ء کے انتخابات کے نتائج میں قومی اسمبلی کی دو سو نشستوں میں سےسو پر پیپلز پارٹی نے کامیابی حاصل کی۔ صوبائی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والی پاکستان قومی اتحاد نے قومی اسمبلی میں صرف چھتیس نشستیں حاصل کیں ۔ الائنس نے انتخابات کے نتائج کو مسترد کر دیا اور ایک بڑی سول نافرمانی کی ملک گیر مہم شروع کردی۔

انہوں نے پیپلز پارٹی پر انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا ، اور پیپلز پارٹی کے صدر اور چیف الیکشن کمشنر کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ قومی اتحاد نے انتخابات کے دوبارہ کرانے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

عمران خان نے بھی سول نافرمانی کا اعلان کردیا ہے،سول نافرمانی کا مطلب حکومت کی رٹ کو چیلنج کرتے ہوئے اس کے احکامات اور ہدایات نہ ماننا ہے، جس میں ٹیکس، لگان یا موجودہ دور میں بجلی، گیس اور پانی کے بل نہ دینا شامل ہیں تاکہ حکومت کی آمدنی روک کر اسے اپنے مطالبات منوانے کے لیے دباؤ میں لایا جاسکے اب دیکھتے ہیں کہ عمران خان اپنے مطالبات مناوانے میں کہاں تک کامیاب ہوسکتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں