پاکستان اور ترکی کے درمیان گیارہ مفاہمتی معاہدوں پر دستخط -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان اور ترکی کے درمیان گیارہ مفاہمتی معاہدوں پر دستخط

اسلام آباد: پاکستان اور ترکی کے وزراء اعظم کے درمیان گیارہ مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط ہوگئے۔

 پاک ترک بزنس فورم کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بہترین نظم و نسق سے تاریخ کو بدلا جا سکتا ہے جبکہ پاکستان کے ساتھ ترکی کے تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں، خود اعتمادی میں اضافے میں ترکی کو بلندیوں تک پہنچایا۔

 احمد داود اوولو کا کہنا تھاکہ ترکی اور پاکستان پڑوسیوں سے زیادہ قریب ہیں،پاکستان کے ساتھ 51 معاہدوں پردستخط کئے گئے ہیں۔

 ترک وزیرعظم داؤد اوولو نے دہشت گردی اور سیلاب سے متاثرہ افراد کیلئے پاکستان کودو کروڑ ڈالرامداد دینے کابھی اعلان کیا۔

 انہوں نےکہاکہ ہم پاکستان کے ساتھ فضائی روابط میں اضافہ چاہتے ہیں، ترکی ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہے گا، ترک وزیراعظم نے شمالی وزیرستان کے لئے دوکروڑ ڈالر مذید امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے ساتھ تجارتی حجم کو تین ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔

اس موقع پر وزیراعظم نوازشریف نےدہشت گردی اور انتہاپسندی کیخلاف ہر فورم پر جنگ جاری رکھنے کا عزم ظاہرکیا اور آزادی اظہارکے نام پر حضرت محمد ﷺ کیخلاف جاری مہم کی مذمت کی ۔

وزیراعظم نوازشریف نے ترک وزیراعظم کو وفد کے ہمراہ پاکستان آمد پرخوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکی کے عوام کے لئے دوسرا گھرہے ،ہم سانحہ پشاور پر ترکی کی غیرمتزلزل حمایت پرشکرگذارہیں۔

 وزیراعظم نوازشریف کا کہنا تھا کہ مشکل وقت میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کا ہمیشہ ساتھ دیا ہے، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ضرور کامیابی حاصل کریں گے۔

پاک ترک بزنس فورم میں دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی 11 یاداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ ان میں اسلام آباد اور انقرہ چیمبر آف کامرس کے درمیان تعاون، لاہور چیمبر آف کامرس اور انقرہ اور کیسوری چیمبر آف کامرس کے درمیان تعاون، پاکستان اور ترکی کے درمیان سائنسی تعاون، ٹرکش ایکریڈیشن ایجنسی اور پاکستان نیشنل ایکریڈیشن کے درمیان مفاہمت، ترکش پیٹنٹ انسٹیٹیوٹ اورانٹیلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے درمیان تعاون، پاکستان اور ترکی کے درمیان تیل و گیس کے شعبے میں تعاون، بندرگاہ کے امور میں مفاہمت، دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹیجک تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا مشترکہ اعلامیہ اور سرمایہ کاری میں اضافے اور اس کے تحفظ کے لیے پروٹوکول شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں