site
stats
اہم ترین

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت کے ساتھ مذاکرات معطل کردیئے

اسلام آباد:  پاکستان تحریک ِ انصاف نے حکومت کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل معطل کردیا ہے، تحریکِ انصاف کے رہنما جہانگیرترین کا کہنا ہے کہ حکومتی اراکین کی تقاریر سُن کرنہیں لگتا کہ حکومت مذاکرات کے لئے سنجیدہ ہے ۔

سیاسی بحران ڈیڈ لاک کا شکار ہوگیا ہے، پاکستان تحریک ِ انصاف کا حکومت سے مذاکراتی عمل جہانگیر ترین کے گھر شروع ہوا، شاہ محمود قریشی اور جاوید ہاشمی بھی موجود تھے،  شاہ محمود قریشی نے کہا ہے ان کی جماعت کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن جاری ہے، لہذا ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات  معطل کررہے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گزشتہ روز میرے گھر پر حملہ کروایا گیا اور اس کی ایف آئی آر بھی درج نہیں کی جا رہی اور اراکین اسمبلی کے بیانات سے ایسا نہیں لگتا کہ حکومت مذاکرات میں سنجیدہ نہیں۔

شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے خلاف جارحانہ قسم کا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے، ایسے ماحول میں مذاکرات کرنا بے سود ہے، اس لئے ہم نے مذاکرات کا جو سلسلہ شروع کیا تھا اسے معطل کر رہے ہیں۔

یہ اہم پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب تحریکِ انصاف کے ساتھ مذاکرات کا دوسرا دور آج ہونا تھا۔

گزشتہ روز مذاکرات کے پہلے دور میں تحریک انصاف کی جانب سے حکومت کو مطالبات پیش کئے گئے۔ تحریک انصاف کی پانچ رکنی مذاکراتی کمیٹی میں جاوید ہاشمی، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر اور عارف علوی جبکہ چھ رکنی حکومتی کمیٹی میں گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیر داخلہ چوہدری نثار،وزیراطلاعات پرویز رشید، وفاقی وزیرعبدالقادربلوچ، زاہد حامداوراحسن اقبال شامل تھے ۔

تحریک انصاف نے چھ نکاتی مطالبات پیش کیے، حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے تحریک انصاف کے نائب صدر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی نے حکومتی کمیٹی کو اپنے مطالبات پیش کردیئے ہیں۔کمیٹی نےان پرغورکرنے اور وزیراعظم کےسامنے پیش کرنیکی یقین دہانی کرائی ہے۔

مذاکرات کے پہلے دور کے اختتام پر گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ملکی اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جائیگا، اس موقع پر احسن اقبال نے کہا کہ ایسا حل نکالا جائے گا جو فریقین کے لیے قابل قبول ہو، ان کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کی قیادت معاملات کاحل نکالنے کے لیے متفق ہے کیونکہ ہم کسی ایسے سیاسی بحران کے متحمل نہیں ہوسکتے، جس سے پاکستان کی جگ ہنسائی ہو۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top