پاکستان شاید ’اسامہ بن لادن‘ کی موجودگی سے آگاہ تھا، سابق سربراہ آئی ایس آئی -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان شاید ’اسامہ بن لادن‘ کی موجودگی سے آگاہ تھا، سابق سربراہ آئی ایس آئی

اسلام آباد: پاکستان کی خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ خفیہ ادارے ملک میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے باخبرہوں۔

عرب سے تعلق رکھنے والے ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں سابق سربرا ہ آئی ایس آئی کا کہنا تھا کہ ممکن ہے کہ خفییہ ادارے اسامہ کو کسی بارگیننگ میں استعمال کرتے لیکن وہ پہلے ہی امریکی آپریشن میں مارا گیا۔ لیفٹیننٹ جنرل اسد درانی 1990سے 1992 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے ہیں۔

القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو دس سال کی طویل تلاش مہم کے بعد مئی 2011 میں امریکی فوجوں نےایبٹ آباد میں ایک آپریشن کے دوران مارگرایا تھا۔ ایبٹ آباد سے ملحقہ علاقے ہری پورکے قریب ہی پاکستان ملٹری اکادمی واقع ہے۔

انٹرویو کے دوران جب ان سے سوال کیا گیا کہ آیا یہ ممکن ہے کہ آئی ایس آئی اسامہ کی پاکستان میں موجودگی سے بے خبر رہی ہو تو انہوں نے جواب دیا کہ، ’’میرا اندازہ کے مطابق یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بے خبر رہے ہوں لیکن اس امر کےزیادہ امکانات ہیں کہ وہ جانتے تھے۔‘‘

’’ اور اسکی یقیناً وجہ یہی رہی ہوگی کہ صحیح وقت پراسامہ کی موجودگی آشکار کی جائے اور صحیح وقت یقیناً وہ ہوتا جب اسامہ کے بدلے میں بہتربارگیننگ ملتی، ظاہرہے اسامہ جیسا شخص یوں ہی تو امریکہ کے حوالے نہیں کیا جاسکتا تھا۔‘‘

درانی نے اس امرپر زور دیا کہ انہیں اس معاملے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں لیکن ان کا اندازہ ہے کہ 2014 میں امریکی افواج کے افغانستان سے انخلاء کے وقت اسامہ کی حوالگی عمل میں لائی جاتی۔

’’ان کے مطابق اسامہ کے بدلے میں پاکستان کی جانب سے افغانستان کے مسئلے کا حل طلب کیا جاتا۔‘‘

اسامہ بن لادن کو امریکی افواج نے 2 مئی 2012 کی رات ایک ڈرامائی ہیلی کاپٹر حملے میں ہلاک کیا تھا۔

اے ایف پی

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں