The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں بس کا سفر موت کا سفربن گیا

پاکستان گزشتہ کئی سال سے دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور ریاست کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لئے عموماً دہشت گرد آسان شکار پرگھات لگا کرحملہ کرتے ہیں۔ مخصوص مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کی گاڑیوں پر حملہ بھی اسی طریقۂ کار کا حصہ ہے۔

پاکستان میں پہلا مشہور بس حملہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پرہوا جس میں ٹیم کے چھ ممبران زخمی اور چھ پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ 2009 سے آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور ملک دشمن عناصر آسان ٹارگٹس پر حملہ کرکے اپنا ہدف باآسانی حاصل کرلیتے ہیں۔

ایسے ہی کچھ سانحات کا ہم یہاں تذکرہ کررہے ہیں جن میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔

صفورہ چورنگی – کراچی
MAY 13, 2015

کراچی کے علاقے صفورہ چورنگی پرآج 13 مئی 2015 کو اسمعیلی ادارے الاظہرگارڈن کے زیرِاہتمام چلنے والی
بس کو روک کرمسلح افراد نے اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 41 افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی
ہوگئے۔

چھ مسلح ملزمان نے بس کو روکا اوراس میں داخل ہوکراندھا دھند فائرنگ کرکے مسافروں کو قتل کردیا، جائے
وقوعہ سے نائن ایم ایم اور ایس ایم جی پسٹل کے خول ملے ہیں۔

سیٹلائٹ ٹاؤن – کوئٹہ
April 27, 2015

کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن میں نامعلوم مسلح مجرمان نے زائرین کی بس کو نشانہ بنایا اوران کی فائرنگ کے
نتیجے میں دو زائر جاں بحق اور ایک زخمی ہوگیا۔

متاثرہ بس کوئٹہ سے تفتان جارہی تھی اوراس میں سوارافراد کا تعلق کوئٹہ کی شیعہ ہزارہ برادری سے تھا۔


ہزار گنجی – کوئٹہ
OCT 23, 2014

کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں ہزارہ برادری کی بس کو نامعلوم افراد نے نشانہ بنایا جس میں کل آٹھ افراد جاں
بحق جبکہ چھ زخمی ہوئے۔

میتوں اور زخمیوں کو بولان میڈیکل کمپلیکس منتقل کیا گیا جہاں ہزارہ برادری نے کثیرتعداد میں جمع ہوکراحتجاج
کیا۔

مستنگ – کوئٹہ

Jan 21, 2014

بلوچستان کے ضلع مستنگ کے علاقے کوشک میں زائرین کی بس پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں 23 افراد جاں
بحق جبکہ 30 زخمی ہوئے۔

واقعے میں 100 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا تھا اوردھماکے سے قبل بس پرفائرنگ بھی کی گئی۔

واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکرِجھنگوی نے قبول کی تھی۔


رزاق آباد پولیس ٹریننگ سنٹر- کراچی

February 14, 2014

کراچی میں نیشنل ہائی وے سے ملحقہ علاقے رزاق آباد میں پولیس ٹریننگ سنٹر کی بس کو نشانہ بنایا گیا جس میں
13پولیس کمانڈوزجاں بحق اور57 زخمی ہوئے۔

بس میں موجود پولیس اہلکاروں کا تعلق سندھ پولیس کے اسپیشل سیکیورٹی یونٹ سے تھا، بس میں 70 کمانڈوز
موجود تھے اوربس میں سوار کمانڈوز بلاول ہاوٗس اور اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس پراپنی ذمہ داریاں سنبھالنے جارہے تھے۔

چارسدہ – پشاور

September 27, 2013

پشاور کے علاقے چارسدہ میں بس پر ہونے والے دھماکے میں 19 افراد جاں بحق جبکہ 44 زخمی ہوئے۔

متاثرہ بس میں موجود افراد کا تعلق سول سیکریٹریٹ پشاور سے تھا۔ بم کو بس کی عقبیحصے میں نصب کیا گیا تھا۔

بابوسرٹاپ – گلگت
August 16, 2012

اسلام آباد سے گلگت جانے والی بس کو آرمی کے یونی فارم میں ملبوس مجرمان نے روک کر مسافروں کے شناختی
کارڈ دیکھ کرشیعہ برادری سے تعلق رکھنے والے افراد کو بس سے اتار کر اندھا دھند فائرنگ کرکے گولیوں کا
نشانہ بنایا۔

یہ سانحہ اسلام آباد سے 100 کلومیٹردور بابو سر ٹاپ کے علاقے میں پیش آیا۔ واقعے میں 25 افراد جاں بحق
ہوئے۔

مستنگ – کوئٹہ
20 September 2011

بلوچستان کے علاقے ضلع مستنگ کے نزدیک لک پاس پر زائرین کی بس کو مسلح ملزمان نے نشانہ بنایا جس میں 29
افراد جاں بحق ہوئے، بس کوئٹہ سے تفتان جارہی ہے۔

زخمیوں کو نجی گاڑیوں کے ذریعے اسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ ایک نجی کارپرنامعلوم افراد نے فائرنگ کردی جس
میں مزید دو افراد جاں بحق ہوئے جنہیں ملا کر مرنے والوں کی کل تعداد 28 ہوگئی۔ واقعے میں متعدد افراد زخمی
بھی ہوئے۔

قذافی اسٹیڈیم – لاہور
3 March 2009

لاہورمیں قذافی اسٹیڈیم کے نزدیک سری لنکن ٹیم پرحملہ 12 مسلح ملزمان نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں سری
لنکن ٹیم کے چھ ممبران زخمی ہوئے جبکہ چھ پولیس اہلکار اور دو پاکستانی شہری جاں بحق ہوگئے۔

اس سانحے کے بعد پاکستان پرعالمی کرکٹ کے دروازے بند ہوگئے تھے اورپاکستان کو اپنے تمام میچزمتحدہ عرب
امارات منتقل کرنے پڑگئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں