site
stats
اے آر وائی خصوصی

پاکستان میں جگرکی پیوند کاری ممکن ہے

پاکستان جگرٹرانسپلانٹ کے شعبے میں ان ممالک کی فہرست میں شامل ہوگیا ہے جوکامیابی کے مراحل طے کررہے ہیں۔

پاکستان میں جگرکی پیوندکاری کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے ملکی تاریخ کا پہلا لیور ٹرانسپلانٹ 2006 میں لاہور کے ایک نجی ہسپتال میں کیا گیا تھاجبکہ سرکاری سطح پر پہلی بارجگر کی پیوند کاری لاہور کے شیخ زید ہسپتال میں دو سال قبل بھارتی ڈاکٹروں کی ٹیم نے کی تھی۔

مئی 2012میں وفاقی دارالحکومت کے پمز ہسپتال میں لندن سے آئی ہوئی ڈاکٹروں کی ٹیم نے پہلا اور آخری لیور ٹرانسپلانٹ کیا جو کامیاب نہ ہو سکا۔

دوسری جانب اسلام آباد میں واقع نجی ہسپتال سرکاری اور نجی سطح پرجگر کی پیوندکاری کرنےوالا واحد ملکی ادارہ ہے جو 30اپریل2012سے اپنا سفر کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہے ۔جہاں پاکستانی ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم اب تک 123 مریضوں کے جگرکی کامیاب پیوندکاری کرچکی ہے۔

لیور ٹرانسپلانٹ سنٹر کے سربراہ ڈاکٹر فیصل ڈاراپنی کامیابی کو پاکستان کے نام کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ کامیابی ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔

دوسری جانب ڈائریکٹر برائےلیورٹرانسپلانٹ ڈاکٹر نجم الحسن نجی سطح پر جگر کی کامیاب پیوندکاری عالمی سطح پر پاکستان کےلئے قابل فخر ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سرکاری سطح پر جگر کی پیوندکاری کے لئے بھی سنجیدہ اقدامات کرے ۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top