پاکستان میں چین کی 32ارب ڈالر کی مہنگی ترین سرمایہ کاری -
The news is by your side.

Advertisement

پاکستان میں چین کی 32ارب ڈالر کی مہنگی ترین سرمایہ کاری

اسلام آباد : حکومت کی طرف سے چین کی بتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری اصل میں چین کی طرف سے دیا جانے والا مہنگا قرضہ ہے، جس سے سلمان شہباز اور میاں منشا فائدہ اٹھائیں گے۔

چین کی طرف سے بتیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے دعووں کی حقیقت یہ ہے کہ یہ سرمایہ کاری نہیں بلکہ سات فی صد کے مہنگے شرح سود پر لیا جانے والا قرضہ ہے، جو کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے لئے ہے۔

جس کی شرط یہ  ہے کہ کوئلہ اور پاور پلانٹ کی تمام مشنری بھی چین سے خریدی جائے گا، ان مںصوبوں کا تعمیراتی ٹھیکہ بغیر بولی کے چین کی کمپنیاں کو دیا جائے گا یا پھر ان کمپنیوں کو جو چین کے آلات استعمال کریں، تیرہ ہزار دو سو میگا واٹ میں سے جتنی بھی بجلی فاضل ہوتی وہ استعمال ہو یا نہ ہوسرکاری خزانے سے اس کی لاگت کی قیمت بھی ادا کی جاتی رہنی تھی ۔

یہ منصوبے زیادہ تر کوئلے سے چلنے والے بجلی گھروں کے ہیں۔ ان منصوبوں کے لئے ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک قرضے صرف دو فی صد شرح سود پر دے رہے ہیں۔

مبصرین کو اس بات پر بھی حیرت ہے کہ چین میں ان معاہدوں کو حتمی شکل دینے والے سرکاری وفد میں سلمان شہباز بھی شریک تھے، وہ ہر میٹنگ میں خود موجود تھے۔

دوسری جانب جب یہ معاہدے ہورہے تھے تو اسی وقت میاں منشا بھی کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر بنانے کا اعلان کررہے تھے یعنی چین سے مہنگا قرضہ میاں منشا اور حسین نواز کو دلوانے کے لیے تھا، اس پورے منصوبے میں تین ارب تیس کروڑ ڈالر کا کمیشن حکمران بنائے گے ۔

ان بجلی گھروں کی تعمیر کیلئے نیپرا سے بھاری تعمیراتی لاگت منظور کروائی جاچکی ہے، ان پلانٹس کی نیپرا سے منظورشدہ تعمیری لاگت سترہ لاکھ ڈالر ہے۔

بھارت نے ایسے ہی پلانٹس لگائے اور اِن کی تعمیراتی لاگت ساڑھے پانچ لاکھ ڈالر آئی، ٹیرف میں اضافے کی درخواست خواجہ نعیم نے دی جو کہ خواجہ آصف کے قریبی رشتہ دار بتائے جاتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں