The news is by your side.

Advertisement

پاک بھارت ٹاکرا: سیاسی سطح پر بھی گرم جوشی

کراچی: پاک بھارت تعلقات میں پاکستانی حکمران کرکٹ ڈپلومیسی کیلئے مشہور ہیں، اس بار بھارتی وزیراعظم نے بیٹ بال کی ڈپلومیسی کی بازی کھیل ڈالی۔

کرکٹ ڈپلومیسی پاک بھارت تعلقات کی بحالی کا آزمودہ ہتھیار ہے، ماضی میں یہ کرکٹ ڈپلومیسی ہی تھی جس کے ذریعے برف پگھلائی گئی اور ڈیڈ لاک ختم ہوئے۔

 کرکٹ ڈپلومیسی کی روایت پاکستان کے سابق صدر جنرل ضیاء الحق نے ڈالی تھی جب انیس سو ستاسی میں جنرل ضیاء الحق اچانک بھارتی شہر جے پور پہنچ گئے اور بھارتی وزیراعظم راجیو گاندھی کے ساتھ کچھ دیر تک ٹیسٹ میچ دیکھا جس کے بعد پاک بھارت کشیدگی کافی حد تک کم ہو گئی تھی۔

سن دوہزار میں ہندو انتہا پسند تنطیم نے نئی دہلی کی پچ کھود دی، پاکستان اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان میچ نہ ہو سکا۔

 دوہزار پانچ میں جنرل پرویز مشرف نے کرکٹ ڈپلومیسی کی روایت برقرار رکھی اور کرکٹ میچ دیکھنے بھارت گئے، بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے ملاقات کی اور کشمیر پر رکے ہوئے مذاکرات بحال کر لیے۔

گذشتہ ورلڈ کپ میں بھی کرکٹ ڈپلومیسی چھائی رہی، پاکستان اور بھارت سیمی فائنل میں پہنچے، ممبئی حملوں کو تین سال گزر چکے تھے، بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو کرکٹ میچ دیکھنے کی دعوت دی۔

دونوں وزرائے اعظم نے میچ دیکھا موہالی میں اور اب بھارتی وزیراعظم نرنیدرمودی نے لیا ہے سہارا کرکٹ ڈپلومیسی کا اور ٹیلی فون کر کے وزیراعظم نواز شریف سے پاک بھارت میچ کے حوالے سے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

نریندر مودی کا کہنا تھا ورلڈ کپ کے میلے میں پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں سے بہترین کھیل کی امید ہے۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی صرف پاکستانی وزیراعظم کو خاطر میں نہیں لائے بلکہ انہوں نے ٹیلی فون ڈپلومیسی میں دیگر چار ملکوں کے سربراہان کو بھی شریک کر لیا اور انہیں ورلڈ کپ کھیلنے پر مبارکباد دی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں