The news is by your side.

Advertisement

پاک چین اقتصادی راہداری، سیاسی جماعتوں نے تعاون کی یقین دہانی کرادی

اسلام آباد: وزیراعظم کی زیر صدارت کل جماعتی کانفرنس میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے روٹ پر اتفاق ہو گیا ہے سیاسی قیادت نے اس اتفاق رائے کو بڑی کامیابی قرار دیا۔

وزیراعطم کی صدارت طویل اجلاس میں پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کے تین میں سے ایک مغربی روٹ پر اتفاق ہوا حکومت نے سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کر دیئے۔

اقتصادی راہ داری پرسیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے اور مشاورت کیلئے  وزیراعظم نے پارلیمانی رہنماوں کی اجلاس طلب کیا تھا جس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے شرکاٗ کو بریفنگ دی، جس کے بعد مختلف رہنماوں نے اپنی آراٗ پیش کیں۔

 اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبے سے ایک اورموقع ملا ہے،خوشی ہے تمام قومی قیادت نے حمایت کا یقین دلایا،تمام صوبوں کو منصوبے کے ثمرات میں شریک کیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے کی نگرانی اورمشاورت کے لیے کمیٹی قائم کی جائے گی،جس میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی ہوگی۔

اس سے پہلے بریفنگ میں احسن اقبال نے بتایا کہ پاک چین اقصادی راہداری ایک سڑک کا نام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کی اقتصادی خو شحالی کا منصوبہ ہے۔

اجلاس کے بعد میں میڈیا سے گفتگو میں مولانا فضل الرحمٰن نے کہا آج کادن ایٹمی طاقت بننے کے ساتھ اقتصادی مستقبل سے متعلق بھی اہمیت کا حامل ہے۔

 امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا کہنا تھا اقتصادی راہداری منصوبہ پورے ملک کے لئے خوش آئند ہے۔

 ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے کہا کہ اس ملاقات میں منصوبے کے ایک حصے پر اتفاق ہوا۔

 اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی نے کہا وزیر اعظم کی فراخ دلی کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

مولانا فضل الرحمان اور سراج الحق نے اقتصادی راہداری پر قومی اتفاق رائے کو خوش آئند قرار دے دیا جبکہ اسفند یار ولی کہتے ہیں وزیر اعظم نے فراخدلی کا مظاہرہ کیا۔

سیاسی قیادت نے اتفاق رائے پر قوم کو مبارکباد دی، سیاسی راہنماوں کا کہنا تھا کہ اقتصادی راہداری منصوبے پر اتفاق سے محروم علاقوں میں خوشحالی آئے گی،اقتصادی راہداری منصوبے کی مانیٹرنگ کے لیئے پارلیمانی کمیٹی اور ورکنگ گروپس کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں