پرویز مشرف کی علامتی گرفتاری کی استدعا مسترد -
The news is by your side.

Advertisement

پرویز مشرف کی علامتی گرفتاری کی استدعا مسترد

خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو علامتی طور پر گرفتار کرنے کی استدعا مسترد کر دی، اکرم شیخ نے موقف اپنایا کہ سابق صدر کا نام ای سی ایل میں ہے لیکن کچھ بھی ہوسکتا ہے؟

خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کیخلاف مقدمے کی سماعت ہوئی ، سماعت کے دوران وکیل سرکار اکرم شیخ نے سابق صدرکی علامتی گرفتاری کی استدعا کی جسے تین رکنی بینچ نے مسترد کر دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ مشرف کی تحویل، پیشی اور اکرم شیخ کے اعتراضات پر حکم میڈیکل رپورٹ کے بعد دینے کا فیصلہ دے رکھا ہے، جس پر اکرم شیخ نے کہا کہ نئے میڈیکل بورڈ تشکیل سے چوبیس جنوری تک کی مہلت دیدی گئی اس دوران مشرف بیرون ملک چلے گئے تو کون ذمے دار ہوگا؟؟

جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ مشرف کا نام ای سی ایل میں ہے، جس پر وکیل سرکار اکرم شیخ نے کہا کہ نام ای سی ایل میں ہے لیکن کچھ بھی ہو سکتا ہے؟ جواب میں جسٹس فیصل عرب نے کہا کہ ایسا کچھ ہوسکتا ہے تو عدالت اور آپ کیا کر سکتے ہیں؟

سابق صدر کے وکیل بیرسٹر سیف کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف کے باہر جانے کے خدشات بے بنیاد ہیں، سماعت کے آغاز پر خصوصی عدالت سے متعلق پرویز مشرف کے وکیل انور منصور کا دلائل میں کہنا تھا کہ عدالت کے لئے ججز کی نامزدگی میں چیف جسٹس سے وزیراعظم کی مشاورت کی کوئی گنجائش نہیں، آئین میں وفاقی حکومت لکھا ہوا ہے اور وفاقی حکومت صرف وزیر اعظم نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اور سابق چیف جسٹس دونوں وہ افراد ہیں، جو مشرف سے ذاتی عناد رکھتے ہیں، انور منصور کے دلائل جاری تھے کہ اُن کی طبعیت خراب ہوگئی اور اُنھیں سانس کی بحالی کیلئے دوائی لینا پڑی، اس صورتحال پرعدالت نے سماعت پیر تک ملتوی کردی۔
       

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں