جمعرات, مئی 14, 2026
اشتہار

پنجاب اسمبلی میں دہشت گردی کی حمایت کے خلاف قانون سازی

اشتہار

حیرت انگیز

لاہور: پنجاب اسمبلی نے دہشت گرد اورکالعدم تنظیموں کی حمایت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈے پر سزا اور جرمانے کے قوانین کی منظوری دے دی۔

اسمبلی اجلاس میں جلسے کے مقررین کی آڈیو وڈیوریکارڈنگ کروانا ضروری قرار دیا گیا جبکہ بغیر لائسنس پولیس یونیفارم کی خرید و فروخت پربھی پابندی عائد کردی گئی۔

سردار شیر علی گورچانی کی زیر صدارت اجلاس میں امن عامہ آرڈیننس 1960 ءمیں ترمیم کرتے ہوئے دہشت گرد اورکالعدم تنظیم کی حمایت، اس کے پروگرام کی تشہیر ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی مخالفت یا اس میں رکاوٹیں ڈالنے والے اور دہشت گردوں کو ہیرو بناکر پیش کر نے پر تین سال قید اور پچاس ہزار سے دولاکھ تک جرمانہ کیا جائے گا۔

بغیر لائسنس پولیس یا قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی یونیفارم کی خرید وفروخت کرنے والے شخص کو چھ ماہ قید اور پچیس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

تھانے کے ایس ایچ او کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی جلسے کے منتظم کو تحریر ی طور پر عوامی اجتماع میں کی جانے والے تقاریر مکمل آڈیو وڈیو ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔

ناکامی کی صورت میں چھ ماہ قید اور پچیس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔

+ posts

سید فواد رضا اے آروائی نیوز کی آن لائن ڈیسک پر نیوز ایڈیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں‘ انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ سے بی ایس کیا ہے اور ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پرتنقیدی نظر رکھتے ہیں

اہم ترین

فواد رضا
فواد رضا
سید فواد رضا اے آروائی نیوز کی آن لائن ڈیسک پر نیوز ایڈیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں‘ انہوں نے جامعہ کراچی کے شعبہ تاریخ سے بی ایس کیا ہے اور ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال پرتنقیدی نظر رکھتے ہیں

مزید خبریں