پنجاب اسمبلی میں دہشت گردی کی حمایت کے خلاف قانون سازی -
The news is by your side.

Advertisement

پنجاب اسمبلی میں دہشت گردی کی حمایت کے خلاف قانون سازی

لاہور: پنجاب اسمبلی نے دہشت گرد اورکالعدم تنظیموں کی حمایت اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف پروپیگنڈے پر سزا اور جرمانے کے قوانین کی منظوری دے دی۔

اسمبلی اجلاس میں جلسے کے مقررین کی آڈیو وڈیوریکارڈنگ کروانا ضروری قرار دیا گیا جبکہ بغیر لائسنس پولیس یونیفارم کی خرید و فروخت پربھی پابندی عائد کردی گئی۔

سردار شیر علی گورچانی کی زیر صدارت اجلاس میں امن عامہ آرڈیننس 1960 ءمیں ترمیم کرتے ہوئے دہشت گرد اورکالعدم تنظیم کی حمایت، اس کے پروگرام کی تشہیر ، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی مخالفت یا اس میں رکاوٹیں ڈالنے والے اور دہشت گردوں کو ہیرو بناکر پیش کر نے پر تین سال قید اور پچاس ہزار سے دولاکھ تک جرمانہ کیا جائے گا۔

بغیر لائسنس پولیس یا قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کی یونیفارم کی خرید وفروخت کرنے والے شخص کو چھ ماہ قید اور پچیس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

تھانے کے ایس ایچ او کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی جلسے کے منتظم کو تحریر ی طور پر عوامی اجتماع میں کی جانے والے تقاریر مکمل آڈیو وڈیو ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔

ناکامی کی صورت میں چھ ماہ قید اور پچیس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک جرمانہ کیا جاسکے گا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں