پنجاب : پولیس کی فائرنگ، 2خواتین سمیت پی اے ٹی کے 6کارکن شہید -
The news is by your side.

Advertisement

پنجاب : پولیس کی فائرنگ، 2خواتین سمیت پی اے ٹی کے 6کارکن شہید

پنجاب: پنجاب پولیس کا پاکستان عوامی تحریک کے خلاف کریک ڈاؤن خونریز ہوگیا، پی اے ٹی کے رہنما کا کہنا ہے کہ پولیس کی فائرنگ سے خواتین سمیت چھ کارکن شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے جبکہ پندرہ ہزار کارکنوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت پاکستان عوامی تحریک کے انقلاب اور عمران خان کے آزادی مارچ پر گھبرا گئی، معاملات میں سیاسی بلوغت کے استعمال کے بجائے طاقت کے استعمال پر اتر آئی، پنجاب پولیس نے ڈیڑہ ماہ بعد پھر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی یاد تازہ کردی۔

ملک بھر سے پاکستان عوامی تحریک کے کارکنان قافلوں کی صورت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن اور آپریشن ضرب عضب میں شہید جوانوں کے ایصال ثواب کیلئے ادارہ منہاج القرآن ماڈل ٹاؤن جانا چاہتے تھے لیکن پنجاب پولیس نے کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کرکےصوبےکو جیل میں تبدیل کردیا۔

جنوبی پنجاب کے اضلاع لیہ ، مظفر گڑھ ، ڈی جی خان سے قافلے بھکر پہنچے تو پولیس نے اسے لاہور جانے سے روکنے کیلئے دھاوا بول دیا، پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں پر پولیس نے براہ راست فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، جس سے ایک کارکن شہید اور درجن بھر زخمی ہو گئے، ایک زخمی کو ملتان منتقل کیا گیا جہاں وہ رات گئے زخموں کی تاب نہ لا کر جاں بحق ہو گیا۔

پی اے ٹی کارکنان جہاں نظر آتے ہیں وہیں فائرنگ شیلنگ اور لاٹھی چارج کر دیا جاتا ہے، ترجمان پی اے ٹی قاضی فیض الاسلام کے مطابق پولیس فائرنگ سے دو خواتین سمیت چھ افراد جاں بحق ہوگئے، بھکر اور سادھو میں میں پولیس نے عوامی تحریک کے کارکنوں سے بھری بسوں پر براہ راست فائر کھول دیا۔

گوجرانوالہ سے ایصال ثواب کیلئے آنے والی خاتون کے جسم میں بھی گولیاں اتاردی گئیں، پنجاب حکومت کی جانب سے پولیس گردی کی بدترین کارروائیوں پر پاکستان عوامی تحریک کے روح روان ڈاکٹر طاہر القادری نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیاہے، جس میں آئندہ کے لائحہ عمل طے کیاجائے گا۔

رحیق عباسی کا کہنا تھا کہ جو کچھ یہ حکومت کر رہی ہے جس طرح پرامن کارکنوں کو گولیوں کا نشانی بنایا جا رہا ہے اس کی مثال پوری دنیا کی سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں