site
stats
پاکستان

پولیس کو شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے کی اجازت نہیں دینگے،عدالت

لاہور:لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ پولیس اہلکار ذاتی عناد میں بے گناہ افراد کو جھوٹے مقدمات میں پھنسا دیتے ہیں، ایسے معاملات پر عدالتیں خاموش نہیں رہ سکتیں۔

جسٹس شاہد حمید ڈار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے موقع پر ملزم لیاقت علی کے وکیل مقصود بٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سابق ڈی آئی جی چوہدری تصدق نے ملزم کی زمین پر قبضہ کرنے کے لئے اسے ساڑھے تین کلو گرام چرس کے جھوٹے مقدمے میں پھنسا دیا۔

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ پولیس اہلکار اپنے عہدوں کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں ،پولیس کے اس رویے نے عام آدمی کو جرائم کی طرف راغب کر رکھا ہے۔

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے خلاف چرس رکھنے کے شواہد نہیں ملے۔جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پولیس کو شرفاء کی پگڑیاں اچھالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عدالتیں ہر حال میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کریں گی۔عدالت نے ملزم لیاقت علی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے پانچ لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top