پہلی فتح ضرور ہوئی پرجنگ ابھی باقی ہے، رضا ربانی -
The news is by your side.

Advertisement

پہلی فتح ضرور ہوئی پرجنگ ابھی باقی ہے، رضا ربانی

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سنیٹررضا ربانی نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ رات سے پنجاب میں بارش کی وجہ سے سیلابی صورتحال ہے، بارشوں سے اب تک درجن سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔

انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف سے اپیل کی کہ جھگڑے پیچھے رکھ کر پنجاب حکومت کو اس معاملے پر توجہ دینے کی ہدایت کریں، انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ پنجاب حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں ہے۔

سنیٹر رضا ربانی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں ہمیں اس بات کو مد نظر رکھنا چائیے کہ یہ پہلی لڑائی ہے، پہلی فتح ضرور ہوئی پر جنگ ابھی باقی ہے ، انھوں نے کہا کہ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ پارلیمان کی فتح ہوئی۔

انھوں نے کہا کہ جہموری قوتیں اگر یہ سمھجتی ہے کہ یہ پہلا اور آخری حملہ ہے تو یہ بھول ہوگی، یہ اداروں کے درمیان اقتدار کی جنگ ہے، جب تک کوئی اقدامات نہیں کیے جائیں گے اس طرح کی سازشیں جنم لیتی رہیں گے،  تمام سازشوں کا مقابلہ صرف متحد پارلیمان ہی کرسکتی ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا ہےکہ ہمیں اس بات کو سمجھنا  ہوگا کہ یہ اقتدار، اداروں کے درمیان ریاست پر کنٹرول حاصل کرنے کی جنگ ہے، آمریت قبول نہیں ہے، خواہ وہ کسی بھی صورت ہو، جان دے دیں گے پارلیمنٹ کی عزت پرآنچ نہیں آنے دیں گے۔

رضا ربانی نے کہا کہ لوگ انقلاب کی بات کررہے ہیں، یہ کون سا انقلاب لانا چاہتے ہیں، مزدوروں اور کسانوں کے بغیر کون سا انقلاب ہوتا ہے؟

سنیٹر رضا ربانی نے مزید کہا کہ ہم مانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی لیکن ہم نے اسے نظام کے لئے قبول کیا، پہلے 4 حلقوں کی بات کرنے والے پورے نظام کو تہہ و بالا کرنے کی بات کرتے ہیں، پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا ، بےنظیر بھٹو کو شہید کیا گیا لیکن ہم نظام سے نہیں نکلے اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔

رضا ربانی نے کہا کہ انقلاب کی بات کرنے والا شخص خود پارلیمنٹ میں پہنچنے کا اہل نہیں کیونکہ اس نے تو خود برطانوی ملکہ سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے، گزشتہ روز انہوں نے اپنی توپوں کا رخ پیپلز پارٹی کی جانب کیا۔ وہ شائد نہیں جانتے کہ ہم نے ہمیشہ براہ راست توپوں کی گولہ باری برداشت کی ہے اور آج تک کررہے ہیں، کل ذوالفقار علی بھٹو پر انگلی اٹھائی گئی جس نے جمہوریت کی بنیاد رکھی، پیپلز پارٹی کے جیالے جانتے ہیں کہ اگر کوئی ان کی قیادت پر انگلی اٹھائے تو وہ اس سے کس طرح نمٹنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تاریخ میں پہلی بارہوا ہے کہ اپوزیشن، وکلا، میڈیا سب ایک پلیٹ فارم پر ہیں اورکہہ رہے ہیں ہم پارلیمان اور آئین کوپامال نہیں ہونے دیں گے۔

 ،

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں