site
stats
عالمی خبریں

پینٹاگون نے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت تسلیم کرلی

واشنگٹن: امریکہ کے فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ عراق اورشام میں داعش کے خلاف ہونے والے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت کے واقعات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

تاریخ میں پہلی بارامریکی فوج نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ فضائی حملوں میں عام شہری بھی نشانہ بنتے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے عام شہریوں کی ہلاکت کے 18 واقعات کا جائزہ لےکر ان میں سے 13 کو داخلِ دفترکردیا جبکہ 05 واقعات پر تحقیقات کے دائرے کو مزید وسیع کردیا ہے۔

امریکہ کے دفاعی حکام کے مطابق جن واقعات پرتفتیش جاری ہے ان میں 26 دسمبر کو ہونے والا تازہ ترین حملہ بھی شامل ہے۔

پینٹاگون کے ترجمان’جان کربی‘نے صحافیوں کو اس حوالے سے بتایا کہ وہ صرف یہ جانتے ہیں کہ سینٹرل کمانڈ عام شہریوں کی ہلاکت کے الزامات کا جائزہ لے رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسا امرہے جس کو ہم انتہائی سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔ ہماری ہمیشہ کوشش ہوتی ہے کہ ہم جب اور جہاں بھی آپریٹ کریں عام شہریوں کی ہلاکت کم سے کم ہو۔

ان کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سے قبل پینٹا گون کی جانب سےعام شہریوں کی ہلاکت کی بابت اطلاعات کی کبھی تصدیق نہیں کی۔

اس سے قبل انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی اس بات کی بارہا تصدیق کرچکی ہیں کہ امریکی حملوں میں درجنوں کے حساب سے عام شہری مارے جارہے ہیں اور ان ہلاکتوں کی تعداد شام میں زیادہ ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top