پیپلزپارٹی کی مولانا فضل الرحمان کو ڈپٹی چیئرمین کی پیشکش -
The news is by your side.

Advertisement

پیپلزپارٹی کی مولانا فضل الرحمان کو ڈپٹی چیئرمین کی پیشکش

اسلام آباد: پیپلزپارٹی نے ڈپٹی چیئرمین کے لئے مولانا فضل الرحمان کو پیشکش کردی ہے، ن لیگ نے تحریک انصافِ کے شفقت محمود سے رابطہ کرلیا ہے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کیلئے سیاسی رابطوں میں تیزی آگئی۔

چیئرمین سینیٹ کیلئے پرانے تعلقات میں توڑپھوڑ اور نئے جوڑ توڑ عروج پر ہیں، مفاہمتی سیاست کے چیمپیئن سابق صدر آصف زرداری نے ایسی بساط بچھا دی کہ موجودہ سو میں سے ترپن سینیٹرز کے ووٹ پیپلز پارٹی کی جھولی میں نظر آتے ہیں۔

پی پی رہنما رضاربانی نے مولانا فضل الرحمان کو ڈپٹی چیئرمین کی پیشکش کردی یعنی جے یوآئی کے پانچ سینیٹرز کا ووٹ پیپلزپارٹی کے حق میں ہوا، پی پی نے اتحادیوں اور اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ نشست میں متحدہ قومی موومنٹ، عوامی نیشنل پارٹی، جمیعت علمائے اسلام،ق لیگ اوربلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کو مدعو کرلیا۔

ایم کیوایم کے آٹھ، عوامی نیشنل پارٹی کے سات، ق لیگ کے چاراور بی این پی عوامی کے دو سنیٹرز ایوان میں ہیں۔

ن لیگ سیاسی بساط پر اپنی بساط کے مطابق چالیں چل رہی ہے۔ چیئرمین سینیٹ کی سیٹ نے وزیرِاعظم نواز شریف کو ق لیگ سے رابطے پر مجبورکر دیا، جس سے ان کی شدید خواہش عیاں ہوگئی، بلوچستان میں اکثریت کے باوجود ن لیگ کو پشتونخوا میپ سمیت بلوچ رہنماء اختر مینگل سے بھی ہاتھ ملانا پڑرہا ہے۔

نوازشریف بھی مولانا فضل الرحمان کو رام کرنے کیلئے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی کرسی پیش کر سکتے ہیں، جوڈیشل کمیشن قائم کرکے نواز شریف تحریکِ انصاف کے چھ سینیٹرز ساتھ ملا سکتے ہیں یعنی ن لیگ کےچھبیس سینیٹرز کے ساتھ دیگرجماعتوں کے انتالیس ووٹ نظر آرہے ہیں۔

فاٹاکے سینیٹرز کا انتخاب باقی ہے اور آزاد ارکان کی تعداد 6ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں