چترال: انٹر ریجنل فٹ بال چیمپین شپ اختتام پذیر -
The news is by your side.

Advertisement

چترال: انٹر ریجنل فٹ بال چیمپین شپ اختتام پذیر

چترال: انٹر ریجنل فٹ بال چیمپین شپ احتتام پذیرہوگئی فائنل میچ میں بنوں فٹ بال ٹیم نے چترا ل ٹیم کو ایک کے مقابلے میں دو گولوں سے شکست دی۔ چترال انٹر ریجنل فُٹ بال چیمپئن شپ احتتام پذیر ہوئی ۔ فائنل میچ میں بنوں ٹیم نے چترال ٹیم کو ایک کے مقابلے میں دو گولوں سے شکست دیکر فائنل ٹرافی جیت لی۔

  ٹورنامنٹ کا احتتام ڈائریکٹوریٹ آف اسپورٹس اینڈ یوتھ افئیر خیبر پحتون خوا نے پہلی بار چترال میں کیا تھا۔ جس میں بنوں، سوات، ابیٹ آباد، ڈی آئی خان، پشاور، چترال ، مردان اور کوہاٹ کے ٹیموں نے حصہ لیا۔  پہلا سیمی فائنل چترال اور ڈی آئی خان ٹیم کے درمیان کھیلا گیا جس کے پہلے ہاف میں چترال کی ٹیم کے عدنان طارق نے گول کرکے چترال کی ٹیم کو برتری دلادی۔

جبکہ دوسرے ہاف میں ضیاء الاسلام نے دوسرا گول کرکے ٹیم کو واضح برتری دلادی اور یوں چترال ٹیم نے صفر کے مقابلے میں دو گولوں سے یہ میچ ڈی آئی خان سے جیت کر فائنل کیلئے کوالیفائی کیا۔ دوسرا سیمی فائنل بنوں اور مردان فٹ بال ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔ جس میں دونوں ٹیموں نے دو، دو گول کئے اور میچ برابر رہا تاہم ریفری نے فیصلہ کیا کہ میچ کا فیصلہ پنالٹی کک کے ذریعے کیا جائے گا۔

جس میں بنوں کی ٹیم نے تین کے مقابلے میں چار گولوں سے مردان کی ٹیم کو شکست دیکر فائنل کیلئے کوالیفائی کرلیا، فائنل میچ بنوں اور چترال ٹیموں کے درمیان کھیلا گیا۔ پہلے ہاف میں بنوں ٹیم کے باچا خان نے ایک گول کرکے بنوں ٹیم کو برتری دلادی جبکہ چترال ٹیم کے عدنان نے ایک بار پھر گول کرکے میچ برابر رہا۔

تاہم بنوں ٹیم نے دوسرا گول کرکے میچ ایک کے مقابلے میں دو گولوں سے جیتا۔ فائنل میچ کے موقع پر عبد الولی خان عابد ایڈوکیٹ صدر قومی وطن پارٹی مہمان خصوصی تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چترا ل کے نوجوانوں میں فٹ بال کے ساتھ ساتھ دوسرے کھیلوں کا بھی نہایت شوق اور اہلیت ہے مگر بدقسمتی سے ہماری منتحب نمائندوں کی نا اہلی کی وجہ سے اب تک چترال میں کوئی اسٹیڈیم تعمیر نہیں ہوسکا۔

انہوں نے جیتنے والے ٹیم کیلئے پندرہ ہزار اور ہارنے والے ٹیم کیلئے دس ہزار روپے کا اعلان کیا۔  انور کمال برکی ڈسٹرکٹ سپورٹس آفیسر ٹانک نے کہا کہ ساٹھ سال کے بعد صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر اتنی بڑے ٹورنامنٹ کا اہتمام کیا ہے جس میں آٹھ اضلاع سے کھلاڑی چترال آکر اس سرزمین پر کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چترا ل کے نوجوانوں سے بہت متاثر ہوئے اگر ان کو موقع مل گیا تو بہت آگے نکل سکتے ہیں اور ملک کا نام روشن کرسکتے ہیں۔ بنوں سے آئے ہوئے ایک کھلاڑی عثمان خان نے کہا کہ چترا ل میں جس گراؤنڈ پر ہم کھیلتے ہیں یہ بھی ہائی اسکول کا ہے اور کھلاڑیوں کیلئے کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے جبکہ موجودہ میدان بھی کافی حراب ہے جس سے مٹی اٹھتی ہے ۔

میچ جیتنے پر بنوں کے کھلاڑیوں نے میدان میں روایتی رقص بھی پیش کیا۔ جبکہ کھیل کے دوران چترال کے موسیقار مسلسل میوزک بجاتے رہے۔ آحر میں مہمان خصوصی نے کھلاڑیوں میں ٹرافی اور کپ تقسیم کئے۔ بنوں ٹیم کے باچا خان کو مین آف دی ٹورنامنٹ قراردیا گیا۔ اس میچ کو دیکھنے کیلئے ہزاروں لوگ میدان میں موجود تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں