The news is by your side.

Advertisement

چوہدری اسلم کی شہادت کوایک برس بیت گیا

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کراچی پولیس کی فرنٹ لائن شخصیت ایس پی چوہدری اسلم کو خود کش حملے میں شہید ہوئے 1 سال بیت گیا تحریک طالبان پاکستان نے ان پرحملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

دہشتگردوں کیلئےدہشت کی علامت ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم پر گزشتہ سال عیسیٰ نگری سے متصل لیاری ایکسپریس وےکے انٹری پوائنٹ پرپونے پانچ بجے شام کے قریب خودکش حملہ ہوا تھا۔

دھماکا اس قدر زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنائی دی گئی، دھماکے نے ان کی گاڑی کو تباہ کردیا ، اس حملے میں چوہدری اسلم کے ڈرائیور اورگن بھی شہادت پائی، حملے میں بارہ اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان مہمند ایجنسی نے قبول کرلی، اس موقع پراس وقت کے ڈی آئی جی ویسٹ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس موجود بم پروف گاڑی کچھ روز قبل بننے کے لیئے دی گئی تھی اس لئے اس وقت ان کے پاس بم پروف گاڑی نہیں تھی۔

اپنی شہادت سے چودہ پندرہ گھنٹے پہلے ، چوہدری اسلم اور ان کی ٹیم نے ایک کارروائی میں طالبان کے تین دہشتگرد ہلاک کئے تھے۔ چوہدری اسلم پراس سے پہلے بھی حملے ہوچکے ہیں۔ ایک خطرناک حملہ ان کے گھر پر بھی ہوا تھا، لیکن ایکسپریس وے دھماکا ان کے لئےجان لیوا ثابت ہوا۔

چوہدری اسلم کی شہادت کے دوررس اثرات مرتب ہوئے جن میں سب سے اہم تحریکِ طالبان پاکستان کے خلاف ملک میں پہلی ایف آئی آر کا درج ہونا تھا۔

تفتیشی افسر نیاز احمد کھوسو کے مطابق جائے وقوعہ سے خودکش حملہ آورکا ہاتھ شناخت کیلئے نادرا بھجوایا گیا، نشانات کی مدد سے حملہ آور کے کوائف سامنے آگئے جن کے مطابق حملہ آور نعیم اللہ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھتا تھا اس کی عمر چھبیس سال تھی اور وہ کراچی کے علاقے قصبہ کالونی میں رہائش پذیر تھا۔ اس کے گھر والوں کے مطابق حملے والے دن وہ صبح سے ہی گھر سے غائب تھا۔

دھماکےمیں شہید ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم نے پسماندگان میں بیوہ، تین بیٹے اور ایک بیٹی کو سوگوارچھوڑا تھا، ان کی بیوہ کےمطابق چوہدری اسلم بچوں کو ٹیوشن چھوڑنے جارہے تھے کہ ہیڈ آفس سے فون آگیا جس کو سنتے ہی وہ فوراً گھر سے روانہ ہوئے اور پھر ان کی شہادت کی خبرآئی۔

انیس سو تریسٹھ میں ایبٹ آباد کے محلے ارغشال میں پیدا ہونے والے ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم نے ابتدائی تعلیم آبائی علاقے میں حاصل کی، انیس سو چوراسی میں بطوراسسٹنٹ سب انسپکٹرپولیس میں بھرتی ہو ئے، اسلم خان کا تعلق صوبہ خیبرپختونخوا کے سیاحتی و فوجی شہرایبٹ آباد سے تھا لیکن دوستوں نے ان کے لباس اورچال ڈھال کی وجہ سے انہیں چو ہدری کہنا شروع کیا اور پھر یہ نام ان کے ساتھ ایسا جڑا کہ وہ چو ہدری اسلم کے نام سے ہی پہچانے جانے لگے۔

جرائم پیشہ افراد اوردہشت گردوں کے خلاف سینہ سِپرچوہدری اسلم نو ے کی دہائی میں متعدد تھانو ں کے ایس ایچ او بھی رہے، سی آئی ڈی کی تفتیشی کمیٹی کی سربراہی کا منصب انہو ں نے دو ہزاردس میں سنبھالا۔ اس دوران ان کے گھرپرخود کش حملہ بھی کیا گیا لیکن وہ محفوظ رہے، ان کے گھر پرہونے والےحملے کی ذمہ داری المختار گروپ نے قبول کی تھی۔،

جناح اسپتال کراچی کے شعبہ حادثات کی انچارج ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق چوہدری اسلم کو حملے میں سر، چہرے،سینے، پیٹ اور ٹانگوں پرکاری زخم آئے اس کے علاوہ ان کے جسم سے کچھ پلاسٹک اوردھاتی ذرات میں بھی ملے تھے۔

حکومت سندھ کا چوہدری اسلم کے اہل خانہ کے لئے دوکروڑ روپے کا اعلان کیا ہے، واقعے میں شہید ہونے والے دیگر اہلکاروں کےلواحقین کو بیس بیس لاکھ روپے اور زخمیوں کو ایک ایک لاکھ روپے دیئے جائیں گے۔

کراچی کے علاقے گلشن اقبال کے قریب لیاری ایکسپریس وے پردہشت گرد کارروائی میں ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم اوران کے ساتھیوں کی شہادت کی خبر کو بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں جگہ دی گئی، بی بی سی ، وائس آف امریکا اور جرمن ریڈیو ڈوئچے ویلے پر کراچی دھماکے اورچوہدری اسلم کی شہادت کو اہم واقعہ اور بڑا نقصان قرار دیا گیا ہے۔

چوہدری اسلم پراس سے پہلے پانچ ناکام حملے ہو چکےتھےاوردہشت گرد اپنی چھٹی کوشش میں چوہدری اسلم کی جان لینے میں کامیاب ہوگئے۔

سندھ پولیس نے آج اپنے دلیراورفرض شناس افسر کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے مزارِ قائد پرایک تقریب کا انعقاد کیا ہے جس میں پولیس حکام کے ہمراہ سول سوسائٹی بھی شرکت کرے گی۔

چوہدری اسلم نے اپنی زندگی کا آخری انٹرویو اے آر وائی نیوز کو دیا تھا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں